سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 266

سيرة النبي عالم 266 جلد 2 ایک دفعہ حضرت عائشہ سخت بیمار ہوئیں اور بیماری کی شدت کے باعث آہ آہ کرنے لگیں۔تو آپ نے ایک رنگ میں ان کو ایسا کرنے سے منع فرمایا۔لیکن حضرت عائشہ نے ذرا غصہ سے کہا کہ آپ کو کیا، میں مر جاؤں گی تو آپ اور شادی کرلیں گے۔اس پر آپ نے فرمایا کہ اچھا! اگر تم ایسا کہتی ہو تو میں ہی پہلے مروں گا 3۔چنانچہ آپ کا اُس وقت کا یہ کہا ہوا پورا ہو گیا اور آپ کی وفات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پہلے ہوئی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس بات کا ہمیشہ غم رہا۔پھر جب حضرت جعفر شہید ہوئے تو تقریر کرتے ہوئے آپ کی گالوں پر تار تار آنسو جاری تھے اور آپ نے فرمایا کہ جعفر شہید ہو گئے اور اب زید نے علم اٹھایا ہے۔پھر فرمایا اب زیڈ شہید ہو گئے اور یہاں تک کہ پھر سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ نے علم اٹھایا اور دشمنوں کو شکست ہو گئی 4۔جب جنگ سے خبر آئی کہ فلاں فلاں شخص شہید ہوئے ہیں تو ان کے رشتہ دار اپنے گھروں میں روتے تھے تو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آہ! جعفر پر رونے والا بھی کوئی نہیں۔بعض نادان عورتوں نے حکم سمجھ کر ان کے گھر میں جا کر پیٹنا شروع کر دیا۔حضرت حمزہ کی شہادت پر برابر آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور تھمتے نہیں تھے۔ان کی وفات کے سالہا سال بعد جب ان کا قاتل وحشی آپ کے سامنے آیا تو آپ نے فرمایا تو بے شک مسلمان ہے اور میں تجھے معاف کرتا ہوں لیکن میرے سامنے نہ آیا کر میں تجھے دیکھ نہیں سکتا۔حالانکہ وحشی ہی وہ شخص تھا جو عین لشکر کفار کے قلب میں اُس وقت گھس گیا جبکہ باقی فوج پیچھے ہٹ گئی تھی اور لوگ اس کو بھی پیچھے ہٹنے کے لئے کہہ رہے تھے لیکن اس نے کہا کہ میں ایسا نہیں کرسکتا۔جب تک میں حضرت حمزہ کے قتل کے عوض میں کسی بڑے کا فر سردار کو نہ قتل کروں گا اُس وقت تک پیچھے نہیں ہٹوں گا۔چنانچہ اس نے اُس وقت مسیلمہ کو قتل کر دیا۔یہ اس کے ایمان اور اخلاص کا حال تھا مگر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تو میرے سامنے نہ آیا کر میں تجھے