سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 258

سيرة النبي عالم 258 جلد 2 جنگ کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات آپ لڑائی میں ہمیشہ تاکید کرتے تھے کہ مسلمان کبھی پہلے خود حملہ نہ کرے ہمیشہ دفاعی طور پر لڑے۔اور یہ کہ عورتوں کو نہ ماریں، بچوں کو نہ ماریں ، پادریوں کو نہ ماریں ، بوڑھے اور معذوروں کو نہ ماریں ، جو ہتھیار ڈال دیں ان کو نہ ماریں، درخت نہ کاٹیں، عمارتیں نہ گرائیں، قصبوں اور گا ؤں کو نہ ٹوٹیں اور اگر آپ کو معلوم ہوتا کہ کسی نے ایسی غلطی کی ہے تو اس پر سخت ناراض ہوتے 26۔فتح مکہ کے بعد حضور اللہ کا جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو اہل مکہ پر تھی تو یا مکہ کے لوگ کانپ رہے تھے کہ اب نہ معلوم سلوک اپنے دشمنوں سے ہمارے ساتھ کیا سلوک ہو گا۔مدینہ کے لوگ جنہوں نے خودان تکلیفوں کو نہ دیکھا تھا جو آپ کو دی گئیں مگر دوسروں سے سنا تھا وہ آپ کی تکلیف کا خیال کر کے ان لوگوں کے خلاف جوش میں بھرے ہوئے تھے۔مگر آپ جب مکہ میں داخل ہوئے تو سب لوگوں کو جمع کیا اور کہا کہ اے لوگو! آج میں اُن سب قصوروں کو جو تم نے میرے حق میں کئے ہیں معاف کرتا ہوں تم کو کوئی سزا نہیں دی جائے گی 27۔اگر جنگیں نہ ہوتیں اور آپ کو بادشاہت نہ ملتی تو آپ کامل نمونہ کس طرح دکھاتے اور انسانی اخلاق کے اس پہلو کو کس طرح دکھاتے۔اخلاق کے دونوں پہلوؤں کا ذکر غرض کہ جنگوں نے بھی آپ کے اخلاق کے ایک پہلو پر سے پردہ اٹھایا اور آپ کی صلح اور امن سے محبت اور آپ کے رحم کو ظاہر کیا کیونکہ سچا رحم کرنے والا اور عفو کرنے والا وہی ہے جسے طاقت ملے اور وہ رحم کرے۔اور سچائی وہی ہے جسے دولت ملے اور وہ اسے تقسیم کرے۔آپ کو خدا تعالیٰ نے ظالم بادشاہوں پر فتح دی اور آپ نے ان کو معاف کر دیا۔آپ کو اس نے بادشاہت دی اور آپ نے اس بادشاہت میں