سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 257

سيرة النبي الله 257 جلد 2 سمیت رہ گئے باقی سب لشکر پراگندہ ہو گیا۔آپ نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور دشمن کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔جو ساتھی باقی رہ گئے تھے وہ گھبرا گئے اور اتر کر آپ کے گھوڑے کی باگیں پکڑ لیں اور کہا حضور ! اس وقت دشمن فاتحانہ بڑھا چلا آ رہا ہے، اسلامی لشکر بھاگ چکا ہے، آپ کی جان پر اسلام کا مدار ہے پیچھے بیٹے تا کہ اسلامی لشکر کو جمع ہونے کا موقع ملے۔آپ نے فرمایا کہ میرے گھوڑے کی باگ چھوڑ دو اور پھر بلند آواز سے کہا میں خدا کا نبی ہوں اور جھوٹا نہیں ہوں 24، کون ہے جو مجھے نقصان پہنچا سکے۔یہ کہہ کر دشمن کے لشکر کی طرف ان 16 آدمیوں سمیت بڑھنا شروع کیا جو آپ کے ساتھ رہ گئے تھے مگر دشمن آپ کو نقصان نہ پہنچا سکا۔پھر آپ نے ایک شخص کو جو بلند آواز والا تھا کہا کہ بلند آواز سے کہو کہ اے اہل مدینہ ! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے۔ایک مائی کہتا ہے کہ ہمارے گھوڑے اور اونٹ اُس وقت سخت ڈرے ہوئے تھے اور بھاگے جاتے تھے ہم ان کو واپس موڑتے تھے اور وہ مڑتے نہ تھے۔جس وقت یہ آواز آئی اُس وقت یکدم ہماری حالت ایسی ہو گئی گویا ہم مُردہ ہیں اور خدا کی آواز ہمیں بلاتی ہے۔وہ کہتا ہے کہ اس آواز کے آتے ہی میں بے تاب ہو گیا۔میں نے اپنے اونٹ کو واپس لے جانا چاہا مگر وہ باگ کے کھینچنے سے دُہرا ہو جاتا تھا مگر مڑتا نہ تھا۔میرے کان میں یہ آواز گونج رہی تھی کہ خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے۔جب میں نے دیکھا کہ اونٹ مجھے دور ہی دور لئے جاتا ہے تو میں نے تلوار نکال کر اس کی گردن کاٹ دی اور پیدل دیوانہ وار اس آواز کی طرف بھاگ پڑا اور بے اختیار کہتا جاتا تھا کہ حاضر ہوں حاضر ہوں 25۔وہ کہتا ہے کہ یہی حال سب لشکر کا تھا۔جو سواری کو موڑ سکا وہ اس کو موڑ کر آپ کے پاس آ گیا اور جو سواری کو نہ موڑ سکا وہ سواری سے کود کر پیدل دوڑ پڑا۔جو یہ بھی نہ کر سکا اس نے سواری کو قتل کر دیا اور آپ کی طرف دوڑ پڑا۔اور چند ہی منٹ میں سب لوگ اسی طرح آپ کے گرد جمع ہو گئے جس طرح کہ کہتے ہیں کہ مُردے اسرافیل کے صور پر قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے۔