سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 259
سيرة النبي علي 259 جلد 2 بھی غربت سے گزارہ کر کے اور سب مال حاجت مندوں میں تقسیم کر کے اس بات کو ثابت کر دیا کہ آپ غرباء کی خبر گیری کی تعلیم اس لئے نہیں دیتے تھے کہ آپ کے پاس کچھ تھا نہیں بلکہ آپ جو کچھ کہتے تھے اس پر عمل بھی کرتے تھے۔مرض الموت میں آپ کی آخری نصیحت آپ نے زندگی کے ہر ایک لحہ کو خدا کے لئے تکلیف اٹھانے میں خرچ کیا ہے اور گویا آپ روز ہی خدا کے لئے مارے جاتے تھے۔63 سال کی عمر میں آپ نے وفات پائی اور بیماری کی حالت میں بھی آپ کو یہی خیال تھا کہ کہیں لوگ میرے بارے میں شرک نہ کرنے لگیں۔چنانچہ بیماری موت میں آپ بار بار گھبرا کر فرماتے تھے کہ خدا برا کرے ان لوگوں کا جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو عبادت کی جگہ بنا لیا ہے۔یعنی ان نبیوں کو الوہیت کی صفات دے کر ان سے دعائیں وغیرہ مانگتے تھے 28۔جس سے آپ کا مطلب یہ تھا کہ مسلمان ایسا نہ کریں۔اسی طرح شرک کی تردید کرتے ہوئے آپ اپنے پیدا کرنے والے سے جاملے۔صلى الله باوجود اس کے لوگ کہتے ہیں کہ مسلمان محمد ﷺ کی پرستش آپ کی بعثت کا نتیجہ کرتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ سب سے زیادہ شرک مٹانے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔انہوں نے اپنی سب عمر اسی کام میں خرچ کی ہے اور دنیا میں جو خیالات توحید کے نظر آتے ہیں وہ سب ان کی اور ان کے متبعین کی ہی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔“ رسول کریم ﷺ کی زندگی اور تعلیم مطبوعہ 1924ء) 1 سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحہ 229 تا 231 مطبوعہ دمشق 2005 ء الطبعة الاولى 2: بخاری کتاب التفسير تفسیر اقرأ باسم ربک صفحہ 886 حدیث نمبر 4953 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية 3:بخارى كتاب بدء الوحى باب كيف كان بدء الوحي صفحه 1 ،2 حدیث نمبر 3 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية