سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 256

سيرة النبي علي 256 جلد 2 ایک وفادار مومن عورت کا واقعہ یہ تو مردوں کی وفاداری کا حال ہے عورتیں بھی اس سے کم نہ تھیں۔مدینہ میں بھی یہ خبر پہنچ گئی تھی کہ آپ شہید ہو گئے ہیں اور سب عورتیں اور بچے شہر سے نکل کر میدان جنگ کی طرف گھبرا کر چل پڑے تھے۔اتنے میں ان کو اسلامی لشکر ملا جو خوشی آپ سمیت واپس لوٹ رہا تھا۔ایک عورت نے ایک سپاہی سے آگے بڑھ کر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اسے چونکہ معلوم تھا کہ آپ خیریت سے ہیں اس نے اس کی پرواہ نہ کی اور اسے کہا کہ تیرا باپ مارا گیا ہے۔اس عورت نے کہا کہ میں تجھ سے اپنے باپ کے متعلق نہیں پوچھتی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت پوچھتی ہوں۔اس نے پھر بھی پرواہ نہ کی اور کہا کہ تیرے دونوں بھائی بھی مارے گئے ہیں۔اس نے پھر چڑ کر کہا کہ میں تجھ سے بھائیوں کے متعلق نہیں پوچھتی۔اس نے کہا کہ وہ تو خیریت سے ہیں۔اس پر اس عورت نے کہا کہ الْحَمْدُ لِلهِ اگر آپ زندہ ہیں تو سب دنیا زندہ ہے۔مجھے پرواہ نہیں کہ میرا باپ مارا گیا ہے یا میرے بھائی مارے گئے ہیں 23۔یہ اخلاص اور یہ محبت اس کامل نمونہ کے بغیر جو آپ نے دکھایا اور اس گہری محبت کے بغیر جو آپ کی بنی نوع انسان سے تھی کس طرح پیدا ہو سکتا اسی طرح ایک دفعہ اسلامی لشکر ایک رسول کریم ﷺ کی استقامت اور پہاڑی میں سے گزر رہا تھا جس کے صحابہؓ کی بطور نمونہ ایک اور مثال دونوں طرف دشمن کے تیر انداز چھپے ہوئے تھے۔مسلمانوں کو اس جگہ کا علم نہ تھا۔ایک تنگ سڑک درمیان سے گزرتی تھی۔جب اسلامی لشکر عین درمیان میں آگیا تو دشمن نے تیر مارنے شروع کئے۔اس اچانک حملہ کا یہ نتیجہ ہوا کہ گھوڑے اور اونٹ ڈر کر دوڑ پڑے اور سوار بے قابو ہو گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چار ہزار دشمن تیر اندازوں کے اندر صرف 16 آدمیوں