سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 255
سيرة النبي علم 255 جلد 2 وہیں کھڑے ہیں تو انہوں نے یک دم حملہ کر کے آپ تک پہنچنا چاہا لیکن صرف چودہ آدمی آپ تک پہنچ سکے۔اُس وقت ایک شخص نے ایک پتھر مارا اور آپ کا سر زخمی ہو گیا اور آپ بے ہوش ہو کر نیچے گر گئے اور آپ کو بچاتے ہوئے کئی اور مسلمان قتل ہو کر آپ پر جا گرے اور لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ آپ شہید ہو گئے ہیں 20۔وہ لوگ ایک عاشق کی طرح تھے کئی لوگ میدان جنگ ہی میں ہتھیار ڈال کر بیٹھ گئے اور رونے لگے۔ایک مسلمان جس کو اس امر کا علم نہ تھا وہ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرا اور اس سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو شہید ہو گئے ہیں۔اس نے کہا تو آؤ! اس سے بڑھ کر لڑنے کا موقع کب ہوگا ؟ جہاں وہ ہمارا محبوب گیا ہے و ہیں ہم جائیں گے۔یہ کہہ کر تلوار ہاتھ میں لے کر دشمنوں کی صفوں پر ٹوٹ پڑا اور آخر مارا گیا۔جب اس کی لاش کو دیکھا گیا تو 70 زخم اس پر لگے تھے 21۔ایک وفادار صحابی کا واقعہ جو لوگ آپ کے پاس تھے انہوں نے جب آپ کے جسم کو لاشوں کے نیچے سے نکالا تو معلوم ہوا کہ آپ زندہ ہیں۔اُس وقت پھر لشکر اسلام جمع ہونا شروع ہو گیا اور دشمن بھاگ گیا۔اُس وقت ایک مسلمان سپاہی اپنے ایک رشتہ دار کو نہ پا کر میدان جنگ میں تلاش کرنے لگا۔آخر اسے میدان جنگ میں اس حالت میں پایا کہ اس کی دونوں لاتیں کئی ہوئی تھیں اور سب جسم زخمی تھا اور اس کی آخری حالت معلوم ہوتی تھی۔اس کو دیکھتے ہی اس زخمی نے پوچھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا کہ آپ خیریت سے ہیں۔یہ بات سن کر اس کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا اور اس نے کہا کہ اب میں خوشی سے جان دوں گا۔پھر اس عزیز کا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ میری ایک امانت صلى الله ہے وہ میرے عزیزوں کو پہنچا دینا اور وہ یہ ہے کہ ان سے کہنا کہ محمد رسول اللہ علی خدا تعالیٰ کی امانت ہے اس کی حفاظت تمہارے ذمہ ہے۔دیکھنا اس کی حفاظت میں کوتاہی نہ کرتا۔اور یہ کہہ کر مسکراتے ہوئے جان دے دی 22۔