سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 190
سيرة النبي علي 190 جلد 2 پھر آپ کے والدین تو زندہ نہ تھے مگر ایسے رشتہ دار تھے جو آپ کے لئے قابل عزت تھے۔چنانچہ آپ ان کا لحاظ کرتے تھے۔جہاں آپ کی حیثیت نبوت اور رسالت تقاضا کرتی تھی کہ آپ پر ایک شخص سے عدل و انصاف کا سلوک کریں وہاں آپ ان تعلقات کو بھی فراموش نہ کرتے تھے۔جنگ بدر میں حضرت عباس مسلمانوں کے ہاتھ میں قید ہو گئے تھے۔عمر کے لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عباس میں چنداں فرق نہ تھا۔حضرت عباس چند مہینہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے پیدا ہوئے تھے۔اور حضرت عباس کی بھی یہ کیفیت تھی کہ جب بڑائی چھوٹائی کا ذکر کرتے تو یوں کرتے کہ بڑے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں مگر پیدا پہلے میں ہوا تھا۔غرض بلحاظ چچا ہونے کے حضرت عباس کی حیثیت باپ کی تھی۔جب آپ قید ہو کر آئے تو دوسرے قیدیوں کے ساتھ زنجیروں میں جکڑ دیئے گئے تھے۔ایسی سختی سے جکڑے ہوئے تھے کہ وہ حرکت نہ کر سکتے تھے۔اس سے ان کو تکلیف ہوتی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی تکلیف برداشت نہ ہو سکتی تھی۔آپ بے چینی سے کروٹیں بدل رہے تھے۔ایک صحابی نے یہ حالت دیکھی اور عرض کیا کہ عباس کے بند ڈھیلے کردوں؟ فرمایا جو سب قیدیوں سے سلوک ہے اس سے وہ ممتاز نہیں کئے جا سکتے۔آخر صحابہؓ نے سب قیدیوں کے بند ڈھیلے کئے 2 جس سے انہوں نے آرام کیا اور آپ بھی آرام فرما سکے۔آپ نے عدل و انصاف میں فرق نہ آنے دیا۔گو حضرت عباس کا فر نہ تھے دل سے مسلمان تھے مگر چونکہ کفار کی طرف سے آئے تھے اس لئے آپ کے ساتھ سلوک کفار جیسا ہی آپ نے کیا۔بحیثیت بھیجے کے آپ کو حضرت عباس کی تکلیف سے تکلیف تھی مگر بحیثیت مسلمانوں کے حاکم اور بادشاہ کے آپ نے حضرت عباس سے کوئی علیحدہ سلوک نہیں کیا سوائے اس کے جو سب سے کیا گیا۔تو ایک بات کو دیکھ کر فتویٰ نہیں دیا جا سکتا۔رسول کریم ﷺ حضرت عباس کا ادب کرتے تھے لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ آپ سے حضرت عباس کا رتبہ