سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 189
سيرة النبي الله 189 جلد 2 وو رسول کریم علیہ کا اپنے رشتہ داروں سے حسن سلوک حضرت مصلح موعود 27 اپریل 1923ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔حدیث میں آتا ہے کہ جس کوزے سے حضرت عائشہ صدیقہ پانی پیتی تھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ منہ لگا کر پانی پیتے تھے 1۔اگر کوئی شخص اس واقعہ کو دیکھ کر یہ کہے کہ آنحضرت ﷺ میں نعوذ باللہ کیا برکت ہو گی کیونکہ آپ تو عائشہ سے برکت ڈھونڈتے تھے تو یہ اس کی نادانی ہوگی کیونکہ آپ کا اس جگہ منہ لگا کر پانی پینا بحیثیت نبی کے نہ تھا بلکہ خاوند کے تھا۔پس اس طرح آپ نے نمونہ قائم کر دیا کہ اپنی بیویوں سے حسن سلوک اور ان کی دلجوئی اور خاطر داری یوں کی جاتی ہے۔اسی طرح آپ بعض بچوں کے باپ تھے۔لڑکے تو آپ کے بچپن کی حالت میں فوت ہو گئے تھے، لڑکیاں تھیں۔ان لڑکیوں کےلڑکے آپ کے نواسے تھے۔وہ آپ کی کمر پر چڑھ جاتے تھے اور آپ ان کو اٹھاتے تھے۔کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ ان بچوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کر دی کہ آپ نماز پڑھتے تھے اور وہ آپ کی کمر پر چڑھ گئے اور انہوں نے آپ کو گھوڑا بنایا۔پس یہ حالت نبوت کے لحاظ سے نہیں ہے، یہ حیثیت آپ کی محمد نبی کی نہیں تھی محمد ﷺ نانا کی تھی کیونکہ حسن وحسین رضی اللہ عنہما آپ کے نواسے تھے۔پس آپ ان کا نانا ہونے کی حیثیت سے ان کے ناز اٹھاتے تھے کیونکہ ماں باپ کی طرح نانا نانی بھی اپنے نواسوں کے ناز اٹھایا کرتے ہیں۔