سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 188

سيرة النبي الله 188 جلد 2 رسول کریم ہے کے مشورہ اور فیصلہ کا طریق حضرت مصلح موعود 16 مارچ 1923ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔اُحد کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ لیا کہ مخالفین سے کس جگہ مقابلہ کیا جائے۔اندر سے یا باہر چل کر۔آپ کا منشاء تھا کہ اندر سے مقابلہ کیا جائے مگر وہ لوگ جو بدر کے موقع پر جہاد میں حصہ نہیں لے سکے تھے چاہتے تھے کہ اس موقع پر اپنی بہادری کے جوہر دکھا ئیں۔آپ نے ان کی خاطر یہ بات منظور کر لی۔ادھر صحابہ کو خیال ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منشاء مبارک باہر تشریف لے جا کر مقابلہ کا نہ تھا اس لئے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زرہ پہن کر تشریف لائے تو انہوں نے عرض کی کہ آپ کا جس طرح منشاء ہو اسی طرح کیا جائے۔بہتر ہے کہ اندر ہی سے مقابلہ ہو۔آپ نے فرمایا اب وہ وقت گزر گیا خدا کے نبی زرہ پہن کر پھر نہیں اتارا کرتے۔حالانکہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم ہو گیا تھا کہ آپ کا ایک رشتہ دار شہید ہو گا خود آپ کو تکلیف ہوگی مگر آپ نے فرمایا کہ اب زرہ نہیں اتاری جاسکتی بلکہ اب باہر ہی چلنا ہو گا 1۔“ ( الفضل 26 مارچ 1923 ء ) 1: السيرة الحلبية جلد 2 صفحہ 478 479 مطبوعہ بیروت 2012 الطبعة الأولى