سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 176

سيرة النبي الله 176 جلد 2 کے لئے نئے دروازے کھل جائیں گے اور اپنے محبوب رب العالمین کے اور بھی قریب ہو جائیں گے لیکن نتیجہ نَعُوذُ باللهِ مِنْ ذَلِک یہ نکلا کہ آپ نے آ کر جو دروازے پہلے کھلے تھے ان کو بھی بند کر دیا۔کیا کوئی مومن رسول کریم ﷺ کی نسبت اس قسم کا خیال ایک آن واحد کے لئے بھی اپنے دل میں آنے دے سکتا ہے؟ کیا کوئی آپ کا عاشق ایک ساعت کے لئے بھی اس عقیدہ پر قائم رہ سکتا ہے؟ بخدا آپ برکت کا ایک سمندر تھے اور روحانی ترقی کا ایک آسمان تھے جس کی وسعت کو کوئی نہیں پا سکتا۔آپ نے رحمت کے دروازے بند نہیں کر دیئے بلکہ کھول دیئے ہیں اور آپ میں اور پہلے نبیوں میں یہ فرق ہے کہ ان کے شاگرد تو محدثیت تک پہنچ سکتے تھے اور نبوت کا مقام پانے کیلئے ان کو الگ تربیت کی ضرورت ہوتی تھی مگر آنحضرت عے کی شاگردی میں ایک انسان نبوت کے مقام تک پہنچ جاتا ہے اور پھر بھی آپ کا امتنی رہتا ہے اور جس قدر بھی ترقی کرے آپ کی غلامی سے باہر نہیں جا سکتا۔اس کے درجہ کی بلندی اسے امتی کہلانے سے آزاد نہیں کر دیتی بلکہ وہ اپنے درجہ کی بلندی کے مطابق آپ کے احسان کے بار کے نیچے دیتا جاتا ہے کیونکہ آپ قرب کے اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جس تک دوسروں کو رسائی نہیں ہوئی اور آپ نے اس قدر بلندی کو طے کر لیا ہے جس تک دوسروں کا ہاتھ بھی نہیں پہنچا اور آپ کی ترقی اس سرعت سے جاری ہے کہ واہمہ بھی اس کا اندازہ لگانے سے قاصر ہے۔پس آپ کی امت نے بھی آپ کے قدم بڑھانے سے قدم بڑھایا ہے اور آپ کے ترقی فرمانے سے ترقی کی ہے۔رسول کریم ﷺ کا یہ مقام جو اوپر بیان ہوا ہے ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم اس قسم کی نبوت کا سلسلہ آپ کے بعد جاری سمجھیں کیونکہ اس میں آپ کی عزت ہے اور اس کے بند کرنے میں آپ کی سخت ہتک ہے۔کون نہیں سمجھ سکتا کہ لائق استاد کی علامت یہ ہے کہ اس کے لائق شاگرد ہوں اور بڑے بادشاہ کی علامت یہ ہے کہ اس کے