سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 175

سيرة النبي علي 175 جلد 2 قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے اور عقل سلیم اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس امت میں حاصل ہو سکتی ہے۔اور اگر یہ نبوت اس امت کو حاصل نہ ہو تو پھر اس امت کو دوسرے نبیوں کی امتوں پر کوئی فضیلت نہیں رہتی۔: رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ محدث حضرت موسی علیہ السلام کی امت میں بھی بہت سے گزرے ہیں 1۔پس اگر آنحضرت ﷺ کی قوت قدسیہ بھی انسان کو محدثیت کے مقام تک ہی پہنچا سکتی ہے تو پھر آپ کو دوسرے انبیاء پر کیا فضیلت رہی اور آپ سَيِّدُ وُلدِ آدَم اور نبیوں کے سردار کیونکر ٹھہرے۔خیر الرسل ہونے کے لئے ضروری ہے کہ آپ میں بعض ایسے کمالات پائے جائیں جو پہلے نبیوں میں نہیں پائے جاتے تھے اور ہمارے نزدیک یہ کمال آپ میں ہی ہے کہ پہلے انبیاء کے امتی ان کی قوت جذب سے صرف محدثیت کے مقام تک پہنچ سکتے تھے مگر رسول کریم ﷺ کے امتی مقام نبوت تک بھی پہنچ سکتے ہیں اور یہی آپ کی قوت قدسیہ کا کمال ہے جو ایک مومن کے دل کو آپ کی محبت اور آپ کے عشق کے جذبہ سے بھر دیتا ہے۔اگر آپ کے آنے سے اس قسم کی نبوت کا بھی خاتمہ ہو گیا ہے تو پھر آپ کی مدد دنیا کے لئے ایک عذاب بن جاتی ہے اور قرآن کریم کا وجود بے فائدہ ہو جاتا ہے کیونکہ اس صورت میں یہ ماننا پڑے گا کہ آپ کی بعثت سے پہلے تو انسان بڑے بڑے درجوں تک پہنچ جاتا تھا مگر آپ کی بعثت کے بعد وہ ان درجوں کے پانے سے روک دیا گیا اور یہ ماننا پڑے گا کہ قرآن کریم سے پہلی کتب تو نبوت کا درجہ پانے میں محمد ہوا کرتی تھیں یعنی ان کے ذریعہ سے انسان اس مقام تک پہنچ جاتا تھا جہاں اللہ تعالیٰ اسے نبوت کے مقام کی تربیت کے لئے چن لیتا تھا لیکن قرآن کریم پر عمل کر کے انسان اس درجہ کو نہیں پہنچ سکتا۔اگر فی الواقعہ یہ بات ہو تو اللہ تعالیٰ کے سچے پرستاروں کے دل خون ہو جائیں اور ان کی کمریں ٹوٹ جائیں کیونکہ وہ تو رحمة للعالمین اور سید الانبیاء کی آمد پر یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اب ہماری روحانی ترقیات