سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 136
سيرة النبي عمال 136 جلد 2 صفت رب العالمین کے کامل مظہر حضرت مصلح موعود ہستی باری تعالیٰ خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1921 ء میں صلى الله رسول کریم علیہ کو خدا تعالیٰ کی صفت رب العالمین کا کامل مظہر قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں :۔صفت رحمانیت کو حاصل کرنے پر جب بندہ پر خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت جلوہ کرتی ہے تو اُس میں پھر ایک نیا جوش پیدا ہوتا ہے اس لئے وہ چاہتا ہے کہ اور اوپر چڑھے۔اُس وقت اس کے لئے اگلی منزل آسان ہو جاتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ آؤ اب میں رب العالمین کی صفت کا بھی جلوہ گاہ بنوں۔رب کا کام جیسا کہ میں بتا چکا ہوں ماں باپ کے کام سے مشابہ ہوتا ہے۔ماں باپ یہ نہیں کیا کرتے کہ دودھ گھر میں رکھ دیں کہ بچہ آپ تلاش کر کے پی لے گا بلکہ وہ یہ کرتے ہیں کہ بچہ کو خود تعتمد سے دودھ پلاتے ہیں اور اگر وہ نہ پئے تو جبر آ پلاتے ہیں۔اسی طرح جب بندہ اس مقام پر آتا ہے تو لوگوں کے پیچھے پڑپڑ کر انہیں ہدایت منواتا ہے اور اسی پر کفایت نہیں کرتا کہ صرف وعظ کر دے۔رسول کریم ﷺ کی نسبت آتا ہے کہ آپ ایک دفعہ طائف میں تشریف لے گئے۔وہاں کے لوگوں نے آپ پر پتھر پھینکے اور آپ واپس آگئے۔آتے ہوئے رستہ میں ایک جگہ ستانے لگے۔باغ والے نے اپنے غلام کے ہاتھ کچھ میوہ آپ کے لئے بھیجا۔آپ نے میوہ کی طرف تو کم ہی توجہ کی اس غلام ہی کو تبلیغ کرنے لگ گئے 1 اور آپ کا یہ ہمیشہ دستور تھا کہ جہاں مکہ کے لوگ جمع ہوتے آپ وہاں چلے جاتے اور انہیں تبلیغ کرتے۔حج کے لئے جو لوگ آتے ان کے خیموں میں تشریف لے