سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 137

سيرة النبي علي 137 جلد 2 جاتے اور انہیں تبلیغ کرتے اور اس طرح نہیں کہ کوئی مل گیا تو اسے تبلیغ کر دی بلکہ آپ تلاش کرتے پھرتے اور ڈھونڈ کر انہیں حق پہنچاتے جس طرح ماں باپ بچے کو تلاش کر کر کے کھلاتے پلاتے ہیں کہ بھوکا نہ رہ جائے۔غرض اس صفت کو اپنے اندر پیدا کرنے کے یہ معنے ہیں کہ انسان اپنے آپ کو دنیا کا باپ یا ماں فرض کرے اور لوگوں کے فائدے کا خود خیال رکھے اور خواہ لوگ اس کی بات نہ بھی مانیں تب بھی ان کے پیچھے پڑا ر ہے۔جب انسان اپنے قلب کو ایسا بنا لیتا ہے تو ایسے آدمی کو ایسے لوگ بھی مل جاتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ہم اس سے کچھ لے سکتے ہیں ان پر وہ جبر بھی کر سکتا ہے اور سزائیں بھی دے لیتا ہے اور اس طرح ان کی تربیت کرتا ہے اور ان کی اصلاح کرتا ہے۔وہ کچھ لوگوں کو منتخب کر کے ان کو سکھاتا ہے۔جب وہ مر جاتا ہے تو جن کو اس نے سکھایا ہوتا ہے وہ دوسروں کو سکھاتے ہیں اور اس طرح یہ سلسلہ چلتا چلا جاتا ہے اور وہ اسی نسل کا باپ نہیں ہوتا جس کو سکھاتا ہے بلکہ اگلی نسلوں کا بھی باپ ہوتا ہے۔جس طرح رسول کریم وہ آج بھی ہمارے باپ ہیں جس طرح کہ صحابہ کرام رِضْوَانُ اللهِ عَلَيْهِمْ کے باپ تھے۔اس مقام کا انسان اپنی ہمدردی کو کسی مذہب کے آدمیوں سے محدود نہیں کرتا بلکہ ہر مذہب کے لوگوں کا ہمدرد ہوتا ہے اور سب کا سچا خیر خواہ ہوتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جس کے کامل اور اکمل مظہر محمد رسول اللہ ﷺ تھے اور آپ کے سوا اور کوئی نہیں۔وجہ یہ ہے کہ رب العالمین کا کامل مظہر وہی ہوسکتا ہے جو پہلوں کی بھی تربیت کرے اور پچھلوں کی بھی اور یہ مقام سوائے رسول کریم کے کسی کو حاصل نہیں۔آپ ہی ہیں جو فرماتے ہیں کہ جب آدم ابھی مٹی میں تھا اُس وقت میں خاتم النبین تھا 2 آپ اس لئے پہلوں کی تربیت کرنے والے نہیں کہ آپ نے براہ راست ان کو سکھایا بلکہ اس لئے کہ پہلے نبی اس لئے آئے تھے کہ لوگوں کو محمد م کی تربیت کے نقطہ تک لے جائیں۔پس رسول کریم ﷺ ہی کامل طور پر