سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 135
سيرة النبي ع 135 جلد 2 صلى الله ضرور قانون قدرت میں رکھا ہو گا تم کوشش کرو اور اسے تلاش کر لو۔دیکھو شافی صفت کا علم رکھنے پر رسول کریم ﷺ کا نقطہ نگاہ اپنے ہم عصروں سے بلکہ اپنے بعد آنے والے لوگوں کے نقطہ نگاہ سے بھی کس قدر بدل گیا۔دوسرے لوگ تو یہ خیال کرتے تھے اور آپ کے بعد بھی اب تک یہی خیال کرتے رہے کہ جو باتیں ہمیں معلوم ہو چکی ہیں ان سے بڑی اور کیا ہوسکتی ہیں مگر رسول کریم ﷺ جن کے علم کی بنیاد صفات الہیہ کے علم پر تھی باوجود اُمّی ہونے کے فرماتے ہیں کہ یہ کہہ دینا کہ اس مرض کا علاج نہیں بالکل غلط ہے۔علاج ہر اک شے کا موجود ہے دریافت کرنا تمہارا کام ہے۔آپ کے اس ارشاد کے مقابلہ پر علم کا دعویٰ رکھنے والوں کی مایوسی کہو یا تعلی کہو کس قدر حقیر ، کس قدر ذلیل اور کس قدر زشت و بدصورت معلوم ہوتی ہے۔کجا علم کے دعوئی کے باوجود یہ کہنا کہ گود نیا کے آرام کے سب سامان میسر نہیں آتے مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سامان پیدا ہی نہیں کئے گئے اور کجا رسول کریم ﷺ کا یہ دعویٰ کہ یہ کہنا کہ علم طب ختم ہو گیا ہے جہالت ہے۔ابھی تو ہر بیماری کا علاج نہیں نکلا حالانکہ ہر بیماری کا علاج اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے آپ کے مقابلہ پر دوسرے مدعیان علم کی حالت بالکل اُس مینڈک کی حالت کی طرح معلوم ہوتی ہے جو کنویں کو ہی بہت بڑا سمجھتا ہے اور آپ کی حالت یوں معلوم ہوتی ہے کہ گویا سمندر بھی آنکھوں میں نہیں بچتا۔“ ہستی باری تعالیٰ صفحہ 178 179 ) 1 : مسند احمد بن حنبل جلد 8 صفحہ 132 حدیث نمبر 18646 مطبوعہ لاہور میں حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں۔تَدَاوَوُا عِبَادَ اللَّهِ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنْزِلُ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ مَعَهُ شِفَاءً إِلَّا الْمَوْتَ وَالْهَرَم۔“ ،،