سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 109

سيرة النبي الله 109 جلد 2 رسول کریم اللہ کا ہر فعل عبادت تھا حضرت مصلح موعود 4 نومبر 1921 ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:- اس میں شبہ نہیں کہ خدا کا فضل ہی ہوتا ہے جس سے نجات ہوتی ہے اور کوئی شخص اپنے عمل کی بنا پر دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ نجات پائے گا۔کیونکہ سب سے بڑے عامل اور سب سے بڑے خدا کے فرمانبردار محمد کیے ہیں آپ بھی اپنے اعمال پر بھروسہ نہیں صلى الله کرتے۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم مے سے حضرت عائشہ صدیقہ نے سوال کیا کہ آپ تو اعمال سے ہی بہشت میں جائیں گے؟ آپ نے فرمایا نہیں عائشہ! صلى الله میں بھی خدا کے فضل سے ہی جاؤں گا 1۔پس جب محمد ہے جیسا انسان جس کا ہر ایک سانس، جس کا چلنا پھرنا عبادت میں داخل تھا، جس کا سونا اور جا گنا عبادت میں گنا جاتا تھا، جس کی ہر حرکت و سکون عبادت تھی حتیٰ کہ جس کا پاخانے پیشاب کے لئے جانا اور اپنی بیویوں کے پاس جانا بھی عبادت تھا۔اتنا بڑا عبادت گزار انسان جب کہتا ہے کہ میں اپنے اعمال سے بہشت میں نہ جاؤں گا بلکہ خدا کے فضل سے تو اور کون ہے جو کہے صلى الله کہ میں عمل سے بہشت میں داخل ہو جاؤں گا۔یہ مت خیال کرو کہ رسول کریم کا ہر فعل کیسے عبادت میں داخل ہو گیا۔کیونکہ ان کے متعلق خدا نے یہ بتایا ہے کہ ان کی ہر ایک حالت عبادت تھی۔ناواقف کہہ سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ہر حرکت کیسے عبادت ہوگئی مگر تم یاد رکھو کہ یہ بالکل صحیح بات ہے کہ محمد ﷺ کا ہر فعل عبادت تھا۔ہاں آپ کے سوا کسی کا ہر ایک فعل عبادت نہیں۔آنحضرت ﷺ کے متعلق خدا نے فرمایا لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ : کہ تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ کے ہر فعل صلى الله صلى الله