سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 110
سيرة النبي عمال 110 جلد 2 میں ایک نمونہ ہے۔کیا اس کے یہ معنی نہیں کہ رسول کریم ﷺ اپنے عمل سے بتلائیں کہ کونسا فعل جائز ہے اور کونسا نا جائز ، کونسا مستحسن ہے اور کونسا مکر وہ اور کونسا حلال ہے اور کونسا حرام۔پس رسول کریم ﷺ کا ہر ایک کام ایک بیان ہے اور ایک ڈسکرپشن (Description) ہے۔مثلاً آپ کا نماز پڑھنا نہ صرف خدا کے ایک حکم کی تعمیل تھی بلکہ اعلان تھا کہ یہ فرائض ہیں، یہ سنتیں ہیں اور یہ نوافل ہیں جو فرائض کے علاوہ ہیں اور جن کا پڑھنا قرب الہی کے لئے ضروری ہے۔آپ کا کھانا کھانا اعلان تھا کہ جو کچھ آپ کھاتے ہیں وہ حلال ہے اور جن چیزوں کو آپ نہیں کھاتے تھے وہ کھانے کے ناقابل تھیں۔پس رسول کریم ﷺ کا ہر فعل چونکہ نمونہ بنایا گیا ہے لوگوں کے لئے اس لئے آپ جن چیزوں کو جائز بتاتے تھے اور استعمال فرماتے تھے یہ عبادت تھی۔اسی طرح جن سے منع فرماتے تھے اور استعمال نہ کرتے تھے یہ بھی عبادت میں شامل تھے۔غرض آپ کا ہر فعل عبادت تھا کیونکہ خدا کے حکم کے ماتحت تھا۔چنانچہ اس کی ایک مثال ہے کہ ایک شخص نے عصر کی نماز کا وقت دریافت کیا۔ظاہر ہے کہ اول وقت پر نماز پڑھنا مستحسن ہے مگر آنحضرت ﷺ نے اتنی دیر کی کہ وقت نہایت تنگ ہو گیا 3 آپ کا نماز میں یہ دیر کرنا بھی عبادت تھا۔کیوں؟ اس لئے کہ آپ یہ سبق دے رہے تھے کہ اگر انسان کسی وجہ سے کسی وقت اول وقت میں نماز نہ پڑھ سکے تو اگر آخری وقت تک پڑھ لے تو بھی اس کی نماز ہو جائے گی۔غرض فرائض میں اعلان تھا ، واجبات میں اعلان تھا ، نوافل وسنن میں اعلان تھا کہ یہ سب کچھ عبادت الہی ہے۔اس حالت پر بھی آپ فرماتے ہیں کہ خدا کے فضل سے بہشت میں جائیں گے۔پھر ہم لوگ جن کے اعمال تھوڑے ہیں کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم اعمال سے بہشت میں چلے جائیں گے۔اس سے تمہیں معلوم ہو گیا ہوگا کہ فضل کیسی ضروری چیز ہے مگر وہ محض دعوی سے حاصل نہیں ہوتا اس کے حصول کے لئے بھی کسی چیز کی ضرورت ہے۔محض