سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 108
سيرة النبي ع 108 جلد 2 تائید کرو۔پس اللهُمَّ صَلِّ کے یہ معنی ہوئے کہ اے اللہ ! تو ہر ایک نیکی اور بھلائی اپنے رسول کے لئے چاہ۔ایک ہی دفعہ کا پڑھا ہوا درود اگر قبول ہو جاوے تو یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ورنہ انسان جو دعا خود تجویز کرے گا اس کی مثال ایسی ہوگی کہ کسی فقیر نے ایک ڈپٹی سے سوال کیا۔اس نے اس کو روپیہ یا آٹھ آنے دیئے۔فقیر نے دعا دی کہ خدا تعالیٰ تجھے تھانے دار کرے۔دراصل تو یہ بد دعا تھی مگر اس نے اپنی عقل سے یہی سمجھا۔بندہ اپنی عقل سے جو چاہے گا وہ ضرور ناقص ہوگا۔اس لئے بندہ خدا تعالیٰ سے کہتا ہے کہ تو چاہ کیونکہ تیرا علم کامل ہے۔بَارِک برکۃ سے نکلا ہے۔اس کے معنی اکٹھا ہونا ، جمع ہونا ہیں۔اسی لئے بركة تالاب کو کہتے ہیں جہاں پانی جمع ہوتا ہے۔اللَّهُمَّ بَارِک کے معنی ہوئے صلى الله اے اللہ ! تو نبی کریم ﷺ کے لئے اپنی رحمتیں ،فضل اور انعامات جو تو نے ان پر کئے ہیں ان کو اتنا بڑھا کہ سارے جہاں کی رحمتیں اور برکتیں ان پر اکٹھی ہو جاویں۔صلّ بطور پیج کے ہے اور بَارِک اس سے بڑھ کر ترقی ہے۔یہ ترتیب نہایت ہی اعلیٰ اور اتم ہے۔اسی طرح قرآن کریم کی ترتیب بھی احسن واکمل ہے۔ایسی باتوں پر غور کرنے سے انسان کو عرفان ملتا ہے۔جب انسان ایسی باتوں پر غور کرتا ہے تو اس کا ایمان ترقی کرتا ہے۔دوسرے لوگوں کی مثال اندھوں کی طرح ہوتی ہے وہ پڑھتے ہیں اور سمجھتے (الفضل 5 ستمبر 1921ء) نہیں۔“