سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 79

سيرة النبي علي 79 جلد 1 کا ہاتھ پکڑ لیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! بس کیجیے۔آپ نے تو اپنے رب سے دعا کرنے میں حد کر دی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس وقت زرہ پہنی ہوئی تھی آپ خیمہ سے باہر نکل آئے اور فرمایا کہ ابھی ان لشکروں کو شکست ہو جائے گی اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے بلکہ یہ وقت ان کے انجام کا وقت ہے اور یہ وقت ان لوگوں کے لیے نہایت سخت اور کڑوا ہے۔اللہ اللہ ! خوف خدا کا ایسا تھا کہ باوجود وعدوں کے اس کے غنا کا خیال تھا لیکن یقین بھی ایسا تھا کہ جب حضرت ابوبکر نے عرض کی تو بآواز بلند سنا دیا کہ میں ڈرتا نہیں بلکہ خدا کی طرف سے مجھے علم ہو چکا ہے کہ دشمن شکست کھا کر ذلیل وخوار ہو گا اور ائمۃ الکفر یہیں مارے جائیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔جس جگہ پر عذاب آچکا ہو وہاں آپ نہ ٹھہر تے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے اس قدر خائف تھے اور اُس کا تقویٰ آپ کے دل میں ایسا مستولی تھا کہ نہ صرف آپ ایسے افعال سے محفوظ تھے کہ جن سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا خوف ہو اور نہ صرف لوگوں کو ایسے افعال میں مبتلا ہونے سے روکتے تھے بلکہ آپ اُن مقامات میں ٹھہر نا برداشت نہ کرتے تھے جس جگہ کسی قوم پر عذاب آچکا ہو اور ان واقعات کو یا د کر کے اُن افعال کو آنکھوں کے سامنے لا کر جن کی وجہ سے وہ عذاب نازل ہوئے آپ اس قدر غضب الہی سے خوف کرتے کہ اُس جگہ کا پانی تک استعمال کرنا آپ مکر وہ جانتے۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں لَمَّا نَزَلَ الْحِجُرَ فِي غَزْوَةِ تَبُوْكَ أَمَرَهُمْ أَنْ لَا يَشْرَبُوْا مِنْ بِتْرِهَا وَلَا يَسْتَقُوْا مِنْهَا فَقَالُوْا قَدْ عَجَنَّا مِنْهَا وَاسْتَقَيْنَا فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَطْرَحُوْا ذَلِكَ الْعَجِيْنَ وَيُهْرِيْقُوْا ذَلِكَ الْمَاءَ24 جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے موقع پر مقام حجر پر اترے آپ نے صحابہؓ کو حکم دیا کہ اس کنویں سے پانی نہ پئیں اور نہ پانی بھریں۔یہ حکم سن کر صحابہ نے جواب دیا کہ ہم نے اس پانی سے آٹا گوندھ لیا ہے اور پانی بھر لیا ہے۔آپ نے