سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 80
سيرة النبي علي 80 جلد 1 حکم دیا کہ اس آٹے کو پھینک دو اور اس پانی کو بہا دو۔اس خوف الہی کو دیکھو اور دنیا کے سب راستبازوں کی زندگیوں کا اس پاک نبی کی زندگی سے مقابلہ کرو کہ اس میں خوف الہی کس قدر زیادہ تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پہلے میں ذکر کر چکا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نسبت فرماتے تھے کہ اعمال پر بھروسہ نہ کرتے وَمَا أَدْرِكْ مَا يُفْعَلُ بِی میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔اس سے بھی بڑھ کر یہ بات ہے کہ آپ کبھی اس بات کا دعویٰ نہ کرتے کہ اپنے اعمال کے زور سے جنت کے وارث بن جائیں گے بلکہ ہمیشہ یہی تعلیم دیتے کہ خدا کے فضل سے جو کچھ ملے گا ملے گا اور اپنی نسبت بھی یہی فرماتے کہ میری نجات بھی خدا کے ہی فضل سے ہو گی۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ لَنْ يُدْخِلَ أَحَدًا عَمَلُهُ الْجَنَّةَ قَالُوْا وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ لَا وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ بِفَضْلِ وَرَحْمَةٍ فَسَدِدُوْا وَقَارِبُوْا وَلَا يَتَمَثْنى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَزْدَادَ خَيْرًا وَإِمَّا مُسِيْئًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ 25 فرماتے ہیں میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دفعہ یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کسی کو اس کا عمل جنت میں نہیں داخل کرے گا۔لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ بھی اپنے اعمال کے زور سے جنت میں داخل نہ ہوں گے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ میں بھی اپنے اعمال کے زور سے جنت میں داخل نہ ہوں گا بلکہ خدا کا فضل اور اس کی رحمت مجھے ڈھانپ لیں گے تو میں جنت میں داخل ہوں گا۔اس لیے تم نیکی کرو اور سچائی سے کام لو اور خدا کی نزد یکی کو تلاش کرو۔اور تم میں سے کوئی موت کی آرزو نہ کرے کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو شاید وہ نیکی میں اور ترقی کرے اور اگر بد ہے تو شاید اس کی توبہ قبول ہو جائے اور اسے خدا کی رضا کے حاصل کرنے کا موقع مل جائے۔