سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 78

سيرة النبي علي 78 جلد 1 بعض تو فقط اپنی بہشت تو الگ رہی اپنے دستخطی رقعوں پر دوسروں کو بھی بہشت دلاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہی ان کی حالت پر رحم کرے اور ہمیں اس پاک رسول کی اطاعت کی توفیق دے کہ اس کے بغیر نجات نہیں۔بدر کا واقعہ بدر کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جو ظہور میں آیا وہ بھی چشم بصیرت رکھنے والوں کی آنکھوں کو خیرہ کرنے کے لیے کافی ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے دل میں اللہ تعالیٰ کا کس قدر خوف تھا۔جنگ بدر کے موقع پر جبکہ دشمن کے مقابلہ میں آپ اپنے جاں نثار بہادروں کو لے کر پڑے ہوئے تھے تائید الہی کے آثار ظاہر تھے۔کفار نے اپنے قدم جمانے کے لیے پختہ زمین پر ڈیرے لگائے تھے اور مسلمانوں کے لیے ریت کی جگہ چھوڑی تھی لیکن خدا نے بارش بھیج کر کفار کے خیمہ گاہ میں کیچڑ ہی کیچڑ کر دیا اور مسلمانوں کی جائے قیام مضبوط ہو گئی۔اسی طرح اور بھی تائیدات سماوی ظاہر ہو رہی تھیں لیکن باوجود اس کے اللہ تعالیٰ کا خوف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر ایسا غالب تھا کہ سب وعدوں اور نشانات کے باوجود اس کے غنا کو دیکھ کر گھبراتے تھے اور بیتاب ہو کر اس کے حضور میں دعا فرماتے تھے کہ مسلمانوں کو فتح دے۔چنانچہ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي قُبَّةِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدُ بَعْدَ الْيَوْمِ فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِهِ فَقَالَ حَسُبُكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ فَقَدْ أَلْحَحُتَ عَلَى رَبِّكَ وَهُوَ فِي الدِّرْعِ فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُوْلُ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ 23 نبی کریم جنگ بدر میں ایک گول خیمہ میں تھے اور فرماتے تھے کہ اے میرے خدا! میں تجھے تیرے عہد اور وعدے یاد دلاتا ہوں اور ان کے ایفا کا طالب ہوں۔اے میرے رب! اگر تو ہی ( مسلمانوں کی تباہی ) چاہتا ہے تو آج کے بعد تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔اس پر حضرت ابو بکر نے آپ