سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 77

سيرة النبي علي 77 جلد 1 وعدہ کر کے اس کے خلاف کرتا ہے۔کیسی پاک دعا ہے آپ کے اندرونہ پر کیسی روشنی ڈالتی ہے اور اس سے کیسا کھلا کھلا ظاہر ہو جاتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے کیسے خائف تھے۔کس طرح اُس کے حضور گرتے اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتے۔پھر اُسی سے عرض کرتے کہ مجھ سے تو کچھ نہیں ہوسکتا تو خود ہی فضل کر۔خدا تعالیٰ کے غنا سے خوف بڑوں اور چھوٹوں میں کیا فرق ہوتا ہے۔جن کے پاس کچھ ہوتا ہے وہ کیسے منکسر المزاج ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسے انسان اور ختم نبوت کا دعوی ، قرآن شریف جیسی کتاب اتر رہی ہے، نصرت الہی کی وہ بھر مار ہے کہ دشمن و دوست حیران ہیں۔ہر گھڑی پیار و محبت کے اظہار ہو رہے ہیں حتی کہ بارگاہ خداوندی سے قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ 19 کا حکم جاری ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ آپ کی شان میں فرماتا ہے کہ الَّذِيْنَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ 20 اور اسی طرح ارشاد ہوتا ہے کہ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰی 21 لیکن خشیت الہی کا یہ حال ہے کہ آپ فرماتے ہیں وَاللَّهِ مَا أَدْرِكْ وَأَنَا رَسُوْلُ اللَّهِ مَا يُفْعَلُ بِي 22 خدا کی قسم! میں نہیں جانتا با وجود اس کے کہ میں خدا کا رسول ہوں کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔سچ ہے کہ جسے جتنا قرب شاہی نصیب ہوتا ہے اُسی طرح وہ خائف بھی زیادہ ہوتا ہے۔اُدھر تو اس بادشاہ دو جہاں کا اللہ تعالیٰ کی خشیت میں یہ کمال تھا ادھر ہم آجکل فقراء کو دیکھتے ہیں کہ ذرا کوئی بات ہوئی اور کہتے ہیں کہ اُلٹا دوں طبقہ زمین و آسمان۔ایک ہاتھ میں سوٹا اور ایک ہاتھ میں کشکول گدائی لیے پھرتے ہیں، بدن پر ہندو فقیروں کی طرح راکھ ملی ہوئی ہوتی ہے، معرفتِ الہی سے بالکل بے بہرہ ہوتے ہیں، قرآن شریف پر عمل تو الگ رہا ایک آیت بھی پڑھ نہیں سکتے لیکن دعاوی دیکھو تو کہو کہ نَعُوذُ باللہ اللہ تعالیٰ سب کا روبار خدائی انہیں سپر د کر کے آپ علیحدہ ہو گیا ہے۔یہ تو جہلاء کا گروہ ہے، پیروں کی بھی ایسی ہی حالت ہے۔