سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 65
سيرة النبي علي 65 جلد 1 باب سوم اخلاق پر مجموعی بحث پیشتر اس کے کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق پاکیزہ کا فرداً فرداً ذکر کروں ضروری سمجھتا ہوں کہ اس مضمون پر ایک مجموعی حیثیت سے بھی روشنی ڈالوں جس سے پڑھنے والے کو پہلے ہی سے تنبیہ ہو جائے کہ کس طرح آپ ہر پہلو سے کامل تھے اور اخلاق کی تمام شاخوں میں آپ دوسروں کی نسبت بہت آگے بڑھے ہوئے تھے۔اس بات کے مفصل ثبوت کے لیے تو انسان کو احادیث کا مطالعہ کرنا چاہیے کیونکہ جب آپ کا سلوک صحابہ سے اور ان کا عشق آپ سے دیکھا جائے تو بے اختیار منہ سے نکل جاتا ہے مرحبا احمد مکی مدنی العربی دل و جاں با دفدایت چه عجب خوش لقمی لیکن اس جگہ میں مختصراً یہ بتانا چاہتا ہوں کہ عرب ایک وحشی قوم تھی اور وہ کسی کی اطاعت کرنا حتی الوسع عار جانتی تھی اور اسی لیے کسی ایک بادشاہ کے ماتحت رہنا انہیں گوارہ نہ تھا بلکہ قبائل کے سردار عوام سے مشورہ لے کر کام کرتے تھے۔یہاں تک کہ قیصر و کسرای کی حکومتیں ان کے دونوں طرف پھیلی ہوئی تھیں لیکن ان کی وحشت اور آزادی کی محبت کو دیکھ کر وہ بھی عرب کو فتح کرنے کا خیال نہ کرتی تھیں۔عمرو بن ہند جیسا زبر دست بادشاہ جس نے اردگرد کے علاقوں پر بڑا رعب جمایا ہوا تھا وہ بھی بدوی قبائل کو روپیہ وغیرہ سے بمشکل اپنے قابو میں لا سکا تھا اور پھر بھی یہ حالت تھی کہ ذرا ذرا سی بات پر وہ اسے صاف جواب دے دیتے تھے اور اس کے منہ پر کہہ دیتے تھے کہ ہم