سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 66
سيرة النبي علي 66 جلد 1 تیرے نو کر نہیں کہ تیری فرمانبرداری کریں۔چنانچہ لکھا ہے کہ عمر و بن ہند نے اپنے سرداروں سے پوچھا کہ کیا کوئی شخص ایسا بھی ہے کہ جس کی ماں میری ماں کی خدمت کرنے سے عار کرے؟ اس کے مصاحبوں نے جواب دیا کہ ایک شخص عمر و بن كلثوم ہے اور عرب قبیلہ بنی تغلب کا سردار ہے اس کی ماں بے شک آپ کی ماں کی خدمت سے احتراز کرے گی اور اسے اپنے لیے عار سمجھے گی۔جس پر بادشاہ نے ایک خط لکھ کر عمر و بن كلثوم کو بلوایا اور لکھا کہ اپنی والدہ کو بھی ساتھ لیتے آنا کیونکہ میری والدہ اسے دیکھنا چاہتی ہے۔عمرو بن کلثوم اپنی والدہ اور چند اور معزز خواتین کو لے کر اپنے ہمراہیوں سمیت بادشاہ کے خط کے بموجب حاضر ہو گیا۔بادشاہ کی والدہ نے حسب مشورہ اس کی والدہ سے کچھ کام لینا تھا۔دونوں زنان خانہ میں بیٹھی ہوئی تھیں۔والدہ شاہ نے کسی موقع پر سادگی کے ساتھ کہہ دیا کہ ذرا فلاں قاب 10 مجھے اٹھا دو۔عمر و بن کلثوم کی والدہ لیلی نے جواب دیا کہ جسے ضرورت ہو خود اٹھا لے۔اس پر والدہ شاہ نے مکر راصرار کیا لیکن لیلی نے بجائے اس حکم کی تعمیل کے زور سے نعرہ مارا کہ وَا اَذِلَّاهُ يَا بَنِی تَغْلَبَ اے بنی تغلب ! دوڑ و کہ تمہاری ذلت ہوگئی ہے۔اس آواز کا سننا تھا کہ اس کے بیٹے عمر و بن کلثوم کی آنکھوں میں تو خون اتر آیا۔بادشاہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا گھبرا کر اٹھا۔چونکہ اپنے پاس تو کوئی ہتھیار نہ تھا اِدھر اُدھر دیکھا کہ بادشاہ کی تلوار کھونٹی کے ساتھ لٹک رہی تھی۔اُس کی طرف جھپٹا اور تلوار میان سے نکال کر ایک ہی وار سے بادشاہ کا سراڑا دیا لیکن اس سے بھی جوشِ انتقام نہ اترا۔باہر نکل کر سپاہیوں کو حکم دیا کہ شاہی مال و متاع کوٹ لو۔بادشاہ کی سپاہ تو غافل تھی اس کے سنبھلتے سنبھلتے لوٹ لاٹ کر صفایا کر دیا اور اپنے وطن کی طرف چلا آیا۔چنانچہ اپنے ایک قصیدہ میں اس شاعر نے عمر و بن ہند کو مخاطب کر کے اپنے آزاد ہونے کا ذکر یوں کیا ہے۔اَبَا هِنْدِ فَلَا تَعْجَلُ عَلَيْنَا وَانْظِرْنَا نُخَبِّرُكَ الْيَقِيْنَا اے ابا ہند! تو ہمارے معاملہ میں جلدی نہ کر اور ہمیں ڈھیل دے ہم تجھے یقینی