سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 493
سيرة النبي علي 493 جلد 1 مذہب کے بزرگوں کو گالیاں نہ دی جائیں اور کسی طرح ان کی ہتک نہ جائے بلکہ ان کی خوبیوں کا اعتراف کیا جائے۔اس کے لئے ہندوستان کے بڑے بڑے لوگ ایک کانفرنس قائم کریں اور اس میں ہر ایک مذہب کے لئے اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کیا کریں۔اگر ایسی کا نفرنس تندہی سے کام کرنے لگ جائے تو میرا خیال نہیں بلکہ یقین ہے کہ گالیاں دینے والے لوگوں کو بہت جلدی بھگا دے گی اور شریر لوگوں کی کوئی شرارت آپس کے اتحاد اور صلح کو توڑ نہیں سکے گی۔اس کے متعلق پہلے بھی میں نے ایک دفعہ تحریک کی تھی۔افسوس لوگ لیکچروں اور تقریروں پر تو بڑا زور دیتے ہیں لیکن عملی طور پر کام کرنے کے لئے آگے نہیں بڑھتے۔حالانکہ ہماری جماعت جو خدا کے فضل سے ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے ان کی مدد کرنے کے لئے تیار ہے۔اگر یہ کام ہمارے اکیلے طور پر چلانے کا ہوتا تو ہم اس وقت تک ضرور اس کے متعلق کچھ نہ کچھ کرتے۔لیکن چونکہ یہ سب مذاہب کے لوگوں کے مل کر کرنے کا ہے اس لئے نہیں کیا جا سکا۔اب بھی اگر دیگر مذاہب کے لوگ آمادہ ہوں تو ہم بڑی خوشی سے اس میں مدد دینے کے لئے تیار ہیں۔دوسرا طریق یہ ہے کہ ہر ایک مذہب کے کچھ کچھ لوگ لئے جائیں۔مثلاً ہر مذہب کے دس دس آدمی۔اور ان کی ایک کمیٹی بنائی جائے۔جس کا ذمہ ہو کہ جو تجاویز صلح اور اتحاد کی قرار پائیں وہ ان پر عمل کرنے کی لوگوں کو تحریک کرے اور عوام کو سمجھایا جائے۔ناواقف لوگوں کو اگر کوئی بات اچھی طرح سمجھا دی جائے تو وہ اس پر عمدگی کے ساتھ عمل کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔تو ہر مذہب کے کچھ کچھ لوگ لئے جائیں جو مل کر کام کریں اس طرح صلح کی تحریک کو ترقی ہوسکتی ہے۔اس کے ساتھ ہی میں ایک اور ضروری بات کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ بہت لوگ ہند و مسلمانوں کی صلح پر بہت زور دیتے ہیں مگر گورنمنٹ کا خیال نہیں رکھتے۔کیا ہند و مسلمانوں کی صلح کی ضرورت ہے اور گورنمنٹ کے ساتھ صلح کرنے کی ضرورت نہیں ؟ میرے نزدیک تو ہندو مسلمانوں کی وہی صلح قائم رہ سکتی ہے جس میں گورنمنٹ سے بھی تعلق اور واسطہ ہو۔اس لئے ضروری