سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 494
سيرة النبي علي 494 جلد 1 ہے کہ جہاں جہاں ہندو مسلمانوں میں فساد ہوں وہاں اس کمیٹی کے ممبر گورنمنٹ کے آفیسروں کے ساتھ مل کر اصل معاملہ کی تحقیقات کریں اور پھر اس تحقیقات کو شائع کریں اور بتائیں کہ اس فساد کی ذمہ داری کن لوگوں پر عائد ہوتی ہے۔جو ذمہ وار قرار دیے جائیں ان کے متعلق سب کا فرض ہونا چاہئے کہ ان سے عملی اور زبانی طور پر اظہار نفرت کریں۔اس کمیٹی کے متعلق دوسری باتوں پر اس وقت غور ہو سکتا ہے جبکہ عملی طور پر اس کی کارروائی شروع ہو جائے۔ان دنوں میرے متعلق ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ میں کوئی تقریر نہ کروں لیکن میں نے انہیں کہہ دیا تھا کہ قومی معاملات میں افسوس میں آپ لوگوں کے مشورہ پر عمل نہیں کر سکتا۔تو چونکہ میرے دل میں ان جھگڑوں اور فساووں کی وجہ سے ایک درد پیدا ہوتا ہے جو ہندو مسلمانوں میں ہوتے رہتے ہیں اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آپس میں صلح اور اتحاد سے رہنے کی کوئی صورت پیدا ہو جائے۔اس کے لئے یہی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مختلف مذاہب کے چیدہ چیدہ لوگوں کی ایک کونسل ہو جو لڑائی جھگڑے کی تحقیقات کر کے فیصلہ کرا دیا کرے اور عوام میں بے رو رعایت فیصلوں کے ذریعہ اپنا اعتبار جمائے اور گورنمنٹ کے آفیسروں کے ساتھ مل کر کام کرے۔یہ ہے وہ طریق جس سے صلح میں کامیابی کی امید ہوسکتی ہے۔اگر ایسا ہو جائے تو پھر کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہندوستان کا شاندار مستقبل نظر نہ آ جائے۔پس جولوگ یہاں تشریف لائے ہیں وہ ان باتوں پر غور کریں اور پھر ہمیں اطلاع دیں۔میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ ان تجاویز پر ہمدردانہ طور سے غور کریں گے۔اور اپنے اثر اور رسوخ سے کام لے کر اس نا اتفاقی اور آئے دن کے فسادوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے جن کی وجہ سے آپ میں بے اعتباری اور عداوت پھیلی ہوئی ہے۔“ 1: الاعراف: 86 ریویو آف ریلیجنز اکتوبر 1919 ءصفحہ 326 تا 347)