سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 492
سيرة النبي علي 492 جلد 1 اور چونکہ اس فرقہ کے لوگ اپنے ہی اخباروں کو پڑھتے ہیں اس لئے ان کے دل میں نفرت اور حقارت کے ہی جذبات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ایسی صورت میں کس طرح ممکن ہے کہ آپس میں صلح اور اتحاد ہو سکے۔اس وقت میں نے صلح اور اتحاد کے لئے جو باتیں پیش کی ہیں وہ قرآن کریم اور رسول کریم ﷺ کی بتائی ہوئی پیش کی ہیں۔ان پر اگر سارے لوگ عمل نہ بھی کریں مگر کثرت لوگوں کی عمل پیرا ہو جائے تو صلح ہو سکتی ہے۔لیکن اس کے متعلق ایک اور سوال باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ ان باتوں کو عوام میں پھیلایا اور انہیں ان سے آگاہ کس طرح کیا جائے۔میرے نزدیک اس کی آسان راہ ایک مذہبی طریق سے ہے اور ایک دنیاوی۔میں نے بتایا ہے کہ ہندو مسلمانوں کے اکثر جھگڑے ایک دوسرے کے بزرگوں کو برا بھلا کہنے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ایک ایسا شخص جو رسول کریم میے کو صلى الله زانی ، ڈاکو، دوسروں کا مال کھانے والا ، برے چال چلن والا لکھتا ہے اور کچھ اس کی بات کو درست مان لیتے ہیں تو کس طرح ممکن ہے کہ مسلمان جو آپ پر جان، مال اور ہر ایک پیاری سے پیاری چیز شار کرنے کے لئے تیار ہیں ان لوگوں کے ساتھ صلح کر سکیں۔میں ایک ایسے خاندان سے ہوں جس نے کبھی کسی بات سے ڈر نہیں کیا اور اس بات کا ذکر تاریخ میں مفصل طور پر پایا جاتا ہے۔میں اپنی ذات کے متعلق کہتا ہوں کہ میں رسول کریم ﷺ کی عزت کے لئے اپنی بیوی بچوں حتی کہ اپنی جان کو بھی قربان کر دوں تو اس سے بڑھ کر میرے لئے اور کوئی عزت نہیں ہوسکتی۔اور باوجود اس کے کہ میرے خیال میں ملک کی بھلائی کے لئے صلح اور اتحاد کی سخت ضرورت ہے اگر کوئی رسول کریم ﷺ کی ہتک کرنے والا مجھے کہے کہ صلح کر لو تو میں اسے یہی کہوں گا کہ تو مشرق میں ہے اور میں مغرب میں۔تجھ میں اور مجھ میں کبھی صلح نہیں ہوسکتی۔اسی طرح ایک ہندو جو حضرت کرشن کے متعلق گالیاں سنتا ہے وہ کس طرح گالیاں دینے والے کی طرف صلح کا ہاتھ بڑھا سکتا ہے۔پس مذہبی طریق پر صلح اسی طرح ہو سکتی ہے کہ کسی