سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 491 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 491

سيرة النبي علي 491 جلد 1 دوسرے مذہب کی عبادت گاہ میں جا کر عبادت کرنا تو الگ رہا پاس سے گزرنے پر تو لڑائی جھگڑے نہیں ہونے چاہئیں جو محض ضد اور عداوت کی وجہ سے ہوتے ہیں۔اسلام اس سے منع کرتا ہے اور اپنے پیروؤں کو رواداری کی تعلیم دیتا اور دوسروں کے مذہبی جذبات کو دبانے سے روکتا ہے۔ان باتوں کے علاوہ آپس میں اتفاق اور اتحاد پیدا کرنے کا ایک طریق ہے اور وہ یہ کہ جس مذہب میں جو خوبیاں پائی جائیں ان کا اعتراف کیا جائے۔اب تو ایسا زمانہ ہے کہ بجائے اس کے ایک دوسرے پر اعترض ہی کئے جاتے ہیں اور یہ بہت بڑا نقص اور عیب ہے۔اگر عقل و فکر سے کام لے کر دیکھا جائے تو معلوم ہوسکتا ہے کہ کوئی ایسا مذہب دنیا میں قائم ہی نہیں ہو سکتا جس میں کوئی نہ کوئی خوبی نہ پائی جائے۔کچھ نہ کچھ خوبیاں ہر مذہب میں ضرور ہوتی ہیں۔اس میں کیا شبہ ہے کہ حضرت کرشن کی زندگی میں ایسے سبق ملتے ہیں جن سے نیکی اور تقویٰ ظاہر ہوتا ہے۔پھر اس میں کیا کلام ہے کہ بدھ ، عیسی کی زندگیاں اعلیٰ درجہ کی پاک اور نیکی کا اعلیٰ نمونہ ظاہر کرتی ہیں۔پھر اس میں کیا شبہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے ایسے واقعات ہیں کہ جن سے روحانیت کا اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ حاصل ہو سکتا ہے۔جب حقیقت یہ ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ ان پر اعتراض ہی اعتراض کئے جاتے ہیں اور ان خدا کے برگزیدہ انسانوں کی خوبی کا اعتراف نہیں کیا جاتا۔ہم لوگ تو حضرت کرشن اور حضرت رام کو خدا کے نبی مانتے ہیں مگر جو لوگ انہیں نبی نہیں مانتے وہ کیا اس بات کا انکار کر سکتے ہیں کہ ان کی زندگی میں اعلیٰ سے اعلیٰ سبق نہیں ملتے ؟ ہر گز نہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ ان کی خوبیوں کا اعتراف نہ کیا جائے۔آپس میں اتحاد اور اتفاق کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ دوسرے مذاہب کے بزرگوں کی خوبیوں کا علی الاعلان اعتراف کیا جائے اور عام لوگوں کے دلوں میں ان کی عزت اور توقیر قائم کی جائے۔آج کل تو ایسا ہوتا ہے کہ ہر ایک فرقہ کے اخبارات میں دوسرے مذاہب کے بزرگوں کے عیب ہی عیب بیان کئے جاتے ہیں