سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 367
سيرة النبي علي 367 جلد 1 کی جاتی بلکہ خدا تعالیٰ پر الزام نہیں دیا جاتا کہ اول تو انجیل میں اور نام سے خبر دی گئی تھی لیکن قرآن کریم نے وہ نام ہی بدل دیا۔دوم یہ کہ وہ علامتیں بتائیں جو آنحضرت فارقلیط پر چسپاں نہیں ہوتیں۔ہمارے مخالف ہمارے مقابلہ پر ایک اور رنگ بھی اختیار کرتے ہیں اور وہ یہ کہ انجیل میں فارقلیط کی جو خبر دی گئی ہے اس سے اِسْمُهُ أَحْمَدُ کی پیشگوئی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فارقلیط سے احمد نام ثابت ہوتا ہے اور جب کہ تم اِسْمُهُ اَحْمَدُ کی پیشگوئی رسول کریم ﷺ پر چسپاں نہیں کرتے تو فارقلیا کی پیشگوئی آپ پر چسپاں نہ ہوگی۔اور وہ بھی مسیح موعود پر چسپاں ہوگی۔اور اگر ایسا ہوگا تو آنحضرت ﷺ کے متعلق انجیل میں کونسی پیشگوئی رہ جائے گی۔سواس کا جواب یہ ہے کہ فارقلیط کی پیشگوئی آنحضرت ﷺ کے متعلق ہی ہے اور ہمارے نزدیک آپ ہی اس پیشگوئی کے مصداق ہیں۔لیکن ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ اگر فارقلیط کے معنی احمد نہ کئے جائیں تو یہ پیشگوئی آنحضرت علی چسپاں نہیں ہوتی بلکہ ہمارے نزدیک بہر حال یہ پیشگوئی آنحضرت ﷺ پر چسپاں ہوتی ہے اور جو لوگ فارقلیط کے معنی احمد کر کے اس پیشگوئی کا مصداق رسول کریم میے کو بناتے ہیں تو وہ اپنا پہلو کمزور بناتے ہیں کیونکہ احمد ترجمہ لفظ پیر یکلیو طاس کا کیا جاتا ہے حالانکہ موجودہ یونانی نسخوں میں لفظ پیر یکل طاس کا ہے۔پس جبکہ وہ لفظ جس سے احمد کے معنی نکالے جاتے ہیں موجودہ انا جیل میں ہے ہی نہیں اور پہلے زمانہ کے متعلق بحث ہے کہ آیا ایسا تھا یا نہیں تو ایسے لفظ پر استدلال کی بنیا د جبکہ اور شواہد اس کے ساتھ نہ ہوں نہایت کمزور بات ہے۔اور صرف اس قدر کہہ دینا کافی نہیں کہ چونکہ انجیل میں تحریف ہوئی ہے اس لئے اس میں یہی لفظ ہوگا جو بعض لوگوں نے خیال کیا ہے کیونکہ اس طرح تو جو شخص چاہے انجیل کی ایک آیت لے کر کہہ سکتا ہے کہ یہ یوں نہیں یوں ہے اور اس کی دلیل وہ یہ دے دے کہ چونکہ انجیلوں میں تحریف ہوئی ہے اس لئے مان