سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 366

سيرة النبي علي 366 جلد 1 انجیل میں آپ کا نام محمد آیا ہے پھر ایک عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو یہ صلى الله زور دیا جاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کا نام احمد تھا اور دوسری طرف یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ انجیل میں آنحضرت ﷺ کا نام محمد آیا ہے۔جبکہ انجیل میں آپ کا نام محمد آیا ہے تو پھر اِسْمُهُ أَحْمَدُ والی پیشگوئی آپ پر چسپاں کرنا گویا آپ کی تکذیب کرنا ہے کیونکہ انجیل تو صریح محمد نام سے آپ کی خبر دیتی ہے اور اس پیشگوئی میں کسی احمد نام رسول کی خبر دی گئی ہے۔تو کیا صاف ثابت نہیں ہوتا کہ وہ پیشگوئی اور ہے اور یہ اور ؟ اور کیا اس پیشگوئی کو آپ پر چسپاں کرنے والا قرآن کریم پر غلط بیانی کا الزام نہیں لگا تا کہ انجیل میں تو محمد نام لکھا تھا لیکن قرآن کریم احمد نام بتاتا ہے؟ ایسا شخص ذرا غور تو کرے کہ اس کی یہ حرکت اسے کس خطرناک مقام پر کھڑا کر دیتی ہے اور وہ اپنا شوق پورا کرنے کے لئے قرآن کریم اور رسول کریم ﷺ کی بھی تکذیب کر دیتا ہے۔جس انجیل میں آنحضرت ﷺ کو محمد کے نام سے یاد کیا گیا ہے وہ برنباس کی انجیل ہے اور نواب صدیق حسن خان مرحوم بھوپالوی اپنی تفسیر فتح البیان کی جلد 9 صفحہ 335 میں اِسْمُهُ أَحْمَد والی پیشگوئی کے نیچے لکھتے ہیں کہ برنباس کی انجیل میں جو خبر دی گئی ہے اس کا ایک فقرہ یہ ہے لکن هَذِهِ الْإِمَانَةَ وَ الْإِسْتِهْزَاءَ تَبْقِيَان إِلى أَنْ يَجِيءَ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ یعنی حضرت مسیح نے فرمایا کہ میری یہ اہانت اور استہزاء باقی رہیں گے یہاں تک کہ محمد رسول اللہ تشریف لائیں۔یہ حوالہ ہمارے موجودہ اختلافات سے پہلے کا ہے اور نواب صدیق حسن خان صاحب کی قلم سے نکلا ہے۔پس یہ حوالہ نہایت معتبر ہے به نسبت ان حوالہ جات کے جو اب ہم کو مد نظر رکھ کر گھڑے جاتے ہیں اور اس حوالہ سے ثابت ہے کہ رسول کریم ﷺ کا نام انجیل میں محمد آیا ہے۔پس جبکہ اگر کوئی نام رسول کریم ﷺ کا انجیل میں آیا بھی ہے تو وہ محمد نام ہے تو پھر اس آیت کو خلاف منشاء آیت آپ پر چسپاں کرنے کی کیا وجہ ہے اور کیا اس میں رسول کریم ﷺ کی ہتک نہیں