سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 368
سيرة النبي علي 368 جلد 1 لو کہ جو کچھ میں کہتا ہوں وہی صحیح ہے۔تحریف کا ہونا اور بات ہے اور کسی خاص جگہ تحریف ہونا اور بات ہے۔جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ کس جگہ تحریف ہوئی ہے اپنے پاس سے ایک نئی بات بنا کر انجیل میں داخل نہیں کر سکتے اور نہیں کہہ سکتے کہ اصل میں یہ تھا۔اور ایسا کرنے کی ہم کو ضرورت نہیں کیونکہ فارقلیط عبرانی لفظ ہے اور یہ لفظ مرکب ہے فارق اور لیط سے۔فارق کے معنی بھگانے والا اور لیط کے معنی شیطان یا صلى الله جھوٹ کے ہیں اور ان معنوں کے رو سے آنحضرت عہ ہی اس پیشگوئی کے مصداق بنتے ہیں کیونکہ آپ ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے روحانی ہتھیاروں سے شیطان کو بھگایا اور جھوٹ کا قلع قمع کیا اور بلند آواز سے دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ منادی کی کہ وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا۔پس ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم خواہ مخواہ ایک یونانی ترجمہ پر جو خود زیر بحث ہے اپنی دلیل کی بنا رکھیں۔اصل لفظ فارقلیط ہے اور اس کے لحاظ سے آنحضرت ﷺ کا نام احمد ہو یا نہ ہو آپ اس پیشگوئی کے مصداق بنتے ہیں بلکہ موجودہ ترجمہ یونانی میں جو لفظ پیر بکلیطاس ہے اور جس کا ترجمہ مختلف محققین نے تشفی دہندہ معلم مالک یا پاک روح کے کئے ہیں اگر اس کو بھی مان لیا جائے تو ہمارا کوئی حرج نہیں کیونکہ حضرت مسیح کے بعد کون انسان دنیا کے لئے تشفی دہندہ آیا ہے یا کس نے يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ كا دعوی کیا ہے یا کس کو خدا تعالیٰ نے بنی نوع انسان سے بیعت لینے کا حکم دیا ہے جو سنت کہ اس سے پہلے کے انبیاء میں بھی معلوم نہیں ہوتی اور بیعت کے معنی بیچ دینے کے ہوتے ہیں۔پس وہ مالک بھی ہوا بلکہ آگے اس کے غلام بھی مالک ہو گئے۔پھر وہ کون شخص ہے جو سر سے لے کر پیر تک پاک ہی پاک تھا اور جس کو اللہ تعالی نے کل جہان کے لئے اسوہ حسنہ قرار دیا؟ ظاہر ہے کہ ایسا شخص ایک ہی تھا اور صرف اسی نے ایسا ہونے کا دعوی بھی کیا یعنی ہمارے آنحضرت علﷺ فِدَاهُ بِى وَأُمِّی ہی وہ شخص تھے جن کو یہ سب باتیں حاصل تھیں اور قیامت تک کے لئے بنی نوع انسان کی طرف مبعوث۔صلى الله