سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 356
سيرة النبي علي 356 جلد 1 عبادت میں لگا رہے کیونکہ اسی کا نتیجہ ہے کہ تیری رات بھی خوشی میں اور دن بھی خوشی میں گزرتا ہے۔پس تمہارے لئے عیدین خوشی حاصل کرنے کے لئے نمائش کے طور پر ہیں تا خدا کو راضی کر لو اور تمہارے لئے ہر وقت عید ہو۔چنانچہ دیکھو صحابہ کرام نے خدا کو راضی کیا ان کے لئے کیسی عید میں ہوئیں۔صحابہ وہ لوگ تھے جنہیں دو وقت کا کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا تھا اور جنہیں ملتا تھا وہ وہ لوگ تھے جو جو کا آٹا کھاتے تھے اور وہ بھی چھنا ہوا نہیں ہوتا تھا۔اب اگر کسی کو بو کی روٹی دی جائے تو ناراض ہو جائے۔مگر ان کی یہ حالت تھی کہ جو کا آٹا کھاتے اور بے چھنا کھاتے۔حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ سے ایک عورت نے پوچھا کہ کیا آپ کے زمانہ میں چھلنیاں ہوتی تھیں؟ تو انہوں نے کہا کہ اس طرح کیا جاتا تھا کہ پتھر پر جو رکھ کر گوٹ لئے جاتے تھے اور پھونک کر صاف کر لیتے اور روٹی پکا لیتے تھے۔لیکن انہی لوگوں کو خدا تعالیٰ نے وہ ترقیاں دیں اور وہ عید کے دن دکھائے کہ دنیا میں نہ کسی نے دیکھے اور نہ دیکھے گا۔جس طرف جاتے کامیابی اور فتح پہلے ہی تیار رہتی۔لاکھوں انسان مقابلہ کے لئے آتے مگر صحابہ پہاڑ کی طرح کھڑے رہتے اور جس کسی نے ان سے سر ما را خود پاش پاش ہو گیا۔قیصر وکسری ٹڈی دل لشکر کے ساتھ آئے مگر جس طرح ایک بوسیدہ کپڑا پارہ پارہ ہو جاتا ہے اسی طرح ان کے لشکروں کا صلى الله حال ہوا اور وہ زبر دست ستون جو آنحضرت ﷺ نے گاڑا تھا اسے کوئی نہ ہلا سکا۔یہی صحابہ ایک دوسرے کو اپنی پہلی حالت سناتے ہیں۔ابوہریر کا کہتے ہیں کہ میں بھوک کی وجہ سے گر پڑا کرتا تھا اور لوگ یہ سمجھ کر کہ اسے مرگی ہوگئی ہے علاج کے طور پر جوتیاں مارا کرتے تھے۔پھر کہتے ہیں جب میں مسلمان ہو گیا تو ایک دن جب سخت بھوک لگی تو میں قرآن شریف کی ایک آیت جس میں بھوکوں کو کھانا کھلانے کا ذکر ہے ابوبکر کے پاس اس کا مطلب پوچھنے کے لئے لے گیا۔جس سے میری یہ غرض تھی کہ وہ سمجھ جائیں