سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 355

سيرة النبي علي 355 جلد 1 غم نزدیک نہیں آسکتا اور ذرا بھی فکر خوشی کو مکۃ رنہیں کر سکتا۔چنانچہ لکھا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت یہ ایک درخت کے نیچے سو گئے۔ایک کا فر آیا اور اس نے آکر آپ کی تلوار اٹھا کر سونت لی اور زور سے کہا اومد ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اب تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے؟ آپ بجائے اس کے کہ کسی قسم کی گھبراہٹ سے جواب دیتے بڑے اطمینان اور دلجمعی سے فرماتے ہیں اللہ۔چونکہ آپ نے بغیر کسی گھبراہٹ کے بڑے جلال سے جواب دیا تھا اس لئے اس آدمی کے ہاتھ سے ڈر کے مارے تلوار گر گئی۔آپ نے اٹھالی اور فرمایا اب تو بتلا کہ تجھے میرے ہاتھ سے کون بچائے گا ؟ اس نے کہا آپ ہی بچائیے اور کون ہے جو مجھے بچا سکے 8۔(عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی سوئے ہوئے کو اچانک جگا دیا جائے تو وہ چونک پڑتا ہے۔لیکن آنحضرت ﷺ کو ایک شخص ڈانٹ کر اور تلوار کھینچ کر کہتا ہے کہ بتاؤ تمہیں کون بچائے گا ؟ تو آپ فرماتے ہیں اللہ بچائے گا۔ہندوستان کے لوگ تو عموماً اس نظارے کو اپنی آنکھوں کے سامنے لا ہی نہیں سکتے کیونکہ ان میں سے اکثروں کو تلوار کے دیکھنے کا بھی موقع نہیں ملا۔اگر کسی کے گھر میں چور آن گھسے تو اس کا کہاں تک مقابلہ کیا جاتا ہے۔بعض تو یہاں تک بزدلی دکھاتے ہیں کہ چور ڈاکوؤں کو خود کنجیاں دے کر کہہ دیتے ہیں کہ فلاں جگہ مال ہے خود نکال لو۔تو آنحضرت ﷺ کے اس واقعہ کا اپنی آنکھوں کے سامنے نقشہ کھینچنا آسان نہیں ) مگر تم اپنے دلوں میں اس بات کا اندازہ لگاؤ کہ ایک کافر جو آنحضرت ﷺ کو قتل کرنے کے ارادہ سے آتا ہے اور تلوار کھینچ کر کھڑا ہو جاتا ہے اور اس پر اتنا اثر ہوتا ہے کہ اس کی تمام طاقتیں زائل ہو جاتی ہیں اور عاجز و درماندہ ہو کر جان بخشی کا خواہاں ہوتا ہے۔تو یہ وہ بات ہے جس کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ اور فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا بھلا تجھے کوئی کیا دکھ اور تکلیف پہنچا سکتا ہے۔اگر کوئی تجھے ایک رنج پہنچائے تو ہم دوخوشیاں دیں گے۔پس فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ وَإِلى رَبِّكَ فَارْغَبُ و۔تجھے چاہئے کہ اپنے رب کی