سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 357

سيرة النبي علي 357 جلد 1 گے کہ میں بھوکا ہوں تو کھانا کھلا دیں گے۔(صحابہ کرام سوال کرنے سے بڑی نفرت کرتے تھے۔مگر آج کل یہ بات بُری نہیں سمجھی جاتی ) لیکن وہ مطلب بتا کر آگے چلے گئے۔پھر اسی آیت کو لے کر میں عمر کے پاس گیا انہوں نے بھی مطلب بتا دیا اور چل دیئے۔ابوہریر کا بڑے غصہ ہو کر کہتے ہیں میں اس آیت کے معنی ان سے کچھ کم نہ جانتا تھا۔میری غرض تو یہ تھی کہ کچھ کھلا دیں لیکن وہ اس بات کو نہ سمجھے۔پھر میں آنحضرت ﷺ کے پاس آیا۔آپ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔آپ نے خود بخود ہی فرمایا ابو ہریرۃ ! تمہیں بھوک لگی ہوئی ہے۔یہ ایک دودھ کا بھرا ہوا پیالہ ہے لو اور مسجد میں جس قدر بھو کے ہیں انہیں بھی بلا لاؤ۔ابو ہریرہ کہتے ہیں مجھے یہ بات ناگوار تو گزری کیونکہ مجھے بڑی سخت بھوک لگی تھی۔میں نے کہا کہ اگر مجھے ہی مل جاتا تو کچھ سیری ہو جاتی لیکن میں تعمیل ارشاد کے لئے گیا اور سب کو بلا لایا۔میں نے سمجھا کہ آپ پہلے مجھے ہی پیالہ دیں گے میں اچھی طرح پی لوں گا۔مگر جب وہ آدمی آئے تو آپ نے ایک کو کہا لو پیو۔اس نے پیا۔پھر دوسرے نے پھر تیسرے نے حتی کہ سات آدمی تھے ساتوں نے پیا۔بعد میں آپ نے مجھے فرمایا کہ تم پیو۔میں نے پیا۔جب سیر ہو چکا تو آپ نے فرمایا پھر پیو۔میں نے پیا۔پھر آپ نے فرمایا پیو۔میں نے کہا یا رسول اللہ ! اب تو نتھنوں سے باہر نکلنے لگا ہے۔اُس وقت آپ نے پیالہ لے لیا اور سب کا بچا ہوا دودھ خود پیا 10۔تو یہ حالت تھی۔مگر خدا تعالیٰ کی اطاعت کا یہ نتیجہ نکلا کہ کسری کا وہ شاہی لباس جسے وہ دربار کے وقت پہنا کرتا تھا جب مسلمانوں کے ہاتھ آیا تو اس میں سے ایک رومال ابو ہریرہ کے حصہ میں آیا۔انہوں نے اس میں تھوکا اور کہا واہ ابو ہریرہ ! تجھ پر ایک وہ وقت تھا جب کہ تو بھوک کے مارے گرا کرتا تھا اور لوگ جوتیاں مارا کرتے تھے۔ایک یہ وقت ہے کہ کسریٰ کے رومال میں تھوکتا ہے 11۔مجھے ایک فرانسیسی مؤرخ کی ایک بات پڑھ کر بڑا لطف آیا۔وہ اسلامی تاریخ لکھتے لکھتے لکھتا ہے کہ اے ناظرین! ذرا غور تو کرو مجھے اس بات میں بڑا مزا آ رہا ہے