سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 349
سيرة النبي علي 349 جلد 1 فیضان خاتم النبین مه صلى الله حضرت مصلح موعود کا ایک فرمانروائے ریاست کے نام تبلیغی خط جو کہ ریویو آف ريليجنز مئی 1915 ء میں شائع ہوا اس میں آپ نے رسول کریم علیہ کی حیثیت بطور خاتم النبین کی وضاحت کرتے ہوئے تحریر فرمایا :۔اگر ہم یہ خیال کریں کہ وہی حضرت مسیح ناصرٹی جو بنی اسرائیل کے نبی تھے بہ حیثیت نبی ہونے کے دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے تو اس میں آنحضرت نے کی تک ہے کیونکہ حضرت مسیح نے نبوت کا مقام براہِ راست حاصل کیا تھا اور ہمارے آنحضرت ﷺ کے فیضان سے وہ اس رتبہ کو نہ پہنچے تھے پس ان کے بہ حیثیت نبی واپس آنے سے ختم نبوت کی مہر ٹوٹ جاتی ہے اور خاتم النبیین حضرت مسیح قرار پاتے ہیں نہ کہ ہمارے آنحضرت علی۔پس ہمارا اور دیگر فرق اسلام کا اس مسئلہ میں صرف اس قدر فرق ہے کہ وہ تو ایک گزشتہ نبی کو دوبارہ دنیا میں لا کر آنحضرت یہ کی ختم نبوت کو باطل کرتے ہیں اور ہم یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا شخص نہیں آ سکتا جو براہِ راست فیضان پانے والا ہو بلکہ اب وہی شخص خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل کر سکتا ہے جو پورے طور پر آنحضرت ﷺ کی اطاعت کا جوا اپنی گردن پر رکھ لے۔یہ شخص اگر آنحضرت ﷺ کی توجہ روحانی سے نبوت کا مقام پالے تو اس سے ختم نبوت بھی نہیں ٹوٹتی کیونکہ اس نے جو کچھ حاصل کیا ہے وہ سب آنحضرت ﷺ کی طفیل سے ہے اور اس کے درجہ کی بلندی در حقیقت آنحضرت ﷺ کے درجہ کی صلى الله بلندی ہے کیونکہ شاگرد کی لیاقت استاد کی لیاقت کی علامت ہوتی ہے اور لائق شاگرد صلى الله صلى الله