سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 350
سيرة النبي علي 350 استاد کی عظمت کو کم نہیں بلکہ زیادہ کرتا ہے۔جلد 1 غرض اس بات میں ہم اور دیگر فرق اسلام بالکل متفق ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ایک نبی نے ضرور آنا ہے لیکن وہ تو یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ایک ایسا نبی آئے گا جو براہِ راست انعامِ نبوت پانے والا ہو گا اور اس نے کل کمالات بلا آپ کی اتباع کے حاصل کئے ہوں گے لیکن ہم اس عقیدہ کو گناہ سمجھتے ہیں اور ہمارے نزدیک آنحضرت ﷺ کے بعد دنیا کے پردہ پر کوئی ایسا نبی ظاہر نہیں ہوسکتا جس نے سب کچھ آپ ہی کے طفیل سے نہ پایا ہو بلکہ براہ راست۔کیونکہ اس طرح علا وہ ختم نبوت کے باطل ہونے کے رسول اللہ ﷺ کو اس شخص کا ممنونِ احسان بھی قرار دینا پڑتا ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کی امت کے خراب ہونے پر وہ اس کی اصلاح کرے گا اور اس طرح آپ پر احسان کرے گا لیکن اس پر آپ کا کوئی احسان نہ ہوگا۔لیکن اگر کوئی ایسا شخص نبوت کا درجہ پائے جس نے سب کمالات آپ ہی کی اتباع میں حاصل کئے ہوں اور اسے امت محمدیہ کی اصلاح کے لئے مبعوث کیا جائے تو پھر وہ نقص پیدا نہیں ہوتا جو پہلی صورت میں ہے کیونکہ وہ جو اصلاح کرے گا آنحضرت ﷺ کی ہی اصلاح ہوگی اور اس کا کام آپ ہی کا کام ہو گا کیونکہ وہ آپ کا غیر نہ ہوگا بلکہ آپ ہی سے ہوگا۔اور غیرت تو وہیں ہوتی ہے جہاں غیریت ہو جہاں غیریت نہ ہو وہاں غیرت بھی پیدا نہیں ہوتی۔میری اس تحریر سے آپ نے معلوم کر لیا ہو گا کہ ہمارا اور دیگر فرق اسلام کا اس بات میں اختلاف نہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی آ سکتا ہے یا نہیں بلکہ اس بات میں اختلاف ہے کہ وہ نبی کہاں سے آئے گا۔آیا بنی اسرائیل کا کوئی نبی دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے گا یا اسی امت کا کوئی فرد نبوت کا درجہ پائے گا ؟ اور چونکہ ایک طرف تو ایک نبی کے آنے کی خبر احادیث سے ثابت ہے اور دوسری طرف کسی پچھلے صلى الله نبی کے دوبارہ آنے سے آنحضرت ﷺ کی ہتک ہوتی ہے اس لئے ہمارے نزدیک