سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 336
سيرة النبي علي 336 جلد 1 نہیں رہی۔چنانچہ اس الہام کے ساتھ ایک اور الہام بھی ہے جسے ملا کر اس کے معنی اور بھی صاف ہو جاتے ہیں اور وہ معنی خود حضرت مسیح موعود نے کئے ہیں (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 کے صفحہ 99 پر ) آپ یہ الہام درج کرتے ہیں :۔يُلْقِى الرُّوحَ عَلَى مَنْ يَّشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ كُلُّ بَرَكَةٍ مِّنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ اور خود یوں ترجمہ فرماتے ہیں جس پر اپنے بندوں میں سے چاہتا ہے اپنی روح ڈالتا ہے یعنی منصب نبوت اس کو بخشتا ہے اور یہ تو تمام برکت محمد ے سے ہے۔پس بہت برکت والا ہے جس نے اس بندہ ( یعنی مسیح موعود جیسا کہ انجام آتھم اور اربعین میں فرمایا ہے ) کوتعلیم دی اور بہت برکتوں والا ہے جس نے تعلیم پائی 3 اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ خود حضرت مسیح موعود نے بھی بَرَكَة کے معنی نبوت کئے ہیں اور پہلے الہام کو ملا کر اس کے یہ معنی کئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے منصب نبوت بخشتا ہے۔لیکن یہ بخشش اس کی اور موہبت اس کی براہ راست نہیں ہوتی بلکہ آنحضرت ﷺ کے فیضان کے جاری کرنے سے ہوتی ہے اور وہ نبوت کی برکت آنحضرت علیہ کے طفیل سے ہوتی ہے اور آپ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔غرض کہ اس الہام کے پہلے حصہ میں اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا رتبہ ایسا بڑا ہے کہ ہر ایک برکت آپ سے حاصل ہوسکتی ہے براہ راست موہبت کی ضرورت نہیں خواہ برکت نبوت ہو خواہ کسی اور قسم کی برکت۔جو انسان آپ کی اطاعت کرے وہ دنیا میں کبھی نامراد اور نا کام نہیں رہ سکتا بلکہ ہمیشہ کامیاب اور بامراد ہو گا۔اور ایسا درجہ اور کسی پچھلے نبی کو ہرگز نہیں ملا کہ سب برکتیں اسی کے واسطہ سے ملیں بلکہ آپ سے پہلے نبوت موہبتِ الہی سے براہ راست ملتی تھی نہ بتوسط انبیائے سابقین۔