سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 337

سيرة النبي علي 337 جلد 1 صلى اللهم پھر اس الہام کے دوسرے حصہ میں فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّم فرما کر اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ یہ دعوی ہی نہیں کہ آنحضرت ﷺ کے طفیل سے ہر ایک قسم کی برکت مل سکتی ہے بلکہ یہ ایک ثابت شدہ امر ہے۔چنانچہ اس کی نظیر میں مسیح موعود کو دیکھ لو کہ اس نے آپ کی اطاعت اور غلامی سے ہر ایک قسم کی برکت کو پالیا۔پس ثابت ہوا کہ استاد بھی برکتوں والا اور شاگرد بھی۔استاد اس لئے کہ اگر اس میں ہر قسم کی برکات کے افاضہ کی طاقت نہ ہوتی اور اس کا فیضان ایسا وسیع نہ ہوتا تو پھر وہ ایسا شاگرد کیونکر تیار کر سکتا تھا جو ہر قسم کی برکات سے حصہ پانے والا ہو۔اور شاگرد اس لئے بہت برکت والا ہے کہ ایک تو اس نے اس وقت جبکہ دنیا اس فرد کامل سے جو سب دنیا کی نجات دینے کے لئے آیا تھا خواہ عرب ہوں خواہ عجم ، خواہ گورے ہوں خواہ کالے، خواہ عالم ہوں خواہ جاہل غافل تھی اور اس کی خوبیوں سے بے خبر ہورہی تھی لوگوں کو اس کی خوبیوں سے آگاہ کیا اور اپنے استاد کا نام پھر دنیا میں روشن کیا اور براہین قاطعہ، دلائل نیرہ بج بالغہ اور آیات بینہ سے اس کی عظمت اور جلال کو دنیا سے منوایا اور دوست و دشمن پر روشن کر دیا کہ محمد کے نجات دہندہ عالم ہیں اور قرآن کریم علوم و حکم کا ایک لازوال خزانہ ہے اب کوئی ضد و تعصب سے کام لے کر انکار کرے تو اس کا وبال اس کے سر پر ہے۔پس ایک تو اس لئے شاگرد کو برکت والا قرار دیا۔اور دوسرے اس لئے بھی کہ دیکھو یہ شاگرد جس نے ایسے عظیم الشان استاد کے کمالات کو اپنے اندر لیا اور اپنے آپ کو اسی کے رنگ میں رنگین کر کے ان علوم وفنون کا وارث ہوا جن سے دنیا نا واقف تھی اور اس درجہ تک پہنچ گیا جس سے نبوت محمدیہ کی شان نہایت چمک کے ساتھ دنیا پر ظاہر ہوئی کیسا باکمال ہے۔(حقیقۃ النبوۃ حصہ اول صفحہ 40 تا 44 مطبوعہ قادیان 1915ء) 1: براہین حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 355 ایڈیشن 2008 ء 2: النجم : 10،9 66 3: حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 99 ایڈیشن 2008 ء