سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 335

سيرة النبي عمال 335 جلد 1 الله طرف کہ آنحضرت ﷺ کا فیض ایسا وسیع ہے اور آپ کا کمال اس درجہ ترقی کر چکا ہے کہ اب ہر ایک برکت آپ سے مل سکتی ہے۔برکات کے حصول کیلئے کسی اور ذریعہ کی صلى الله ضرورت نہیں اور یہ بات ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی فعل لغو نہیں۔جبکہ آنحضرت می کی اتباع سے اور آپ کی فرمانبرداری سے اور آپ کی غلامی سے ایک چیز حاصل ہو سکتی ہے تو پھر اس بات کی کوئی ضرورت نہیں رہتی کہ وہ براہ راست ملے۔غرض چونکہ نبوت کا انعام انسان کو آنحضرت ﷺ کے فیض سے حاصل ہوسکتا ہے اور آپ کو وہ قرب الہی حاصل ہے جو آج تک کسی کو حاصل نہیں ہوا اس لئے براہ راست موہبت کا دروازہ بند کر دیا گیا ہے جو رتبہ آپ کو ملا نہ آدم کو نہ نوح نہ ابراہیم کو نہ موسی کو نہ عیسی کو (علیھم السلام ) کسی کو نہیں ملا۔اور حضرت آدم کی اولاد میں سے ایک بھی بیٹا ایسا لائق نہیں ہوا جیسے ہمارے آنحضرت ﷺ تھے۔آپ نے اطاعت الہی میں وہ حالت پیدا کی جو کوئی نبی نہیں پیدا کر سکا اور دربار شہنشاہِ ارض و سماء سے ان انعامات کے مستحق ہوئے جن کا کوئی اور نبی مستحق نہیں ہوا۔اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں آپ کی نسبت فرماتا ہے کہ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنى 2 اور حضرت مسیح موعود کو فرماتا ہے كُلُّ بَرَكَةٍ مِّنْ مُّحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّم پس اس الہام سے ثابت ہے کہ یہ درجہ صرف آنحضرت ﷺ کو ہی حاصل ہے کہ آپ کی اطاعت سے انسان انعام نبوت حاصل کر سکتا ہے اور آپ کی غلامی کا دم بھرتے ہوئے پھر بھی بہت سے نبیوں سے افضل ہوسکتا ہے اور آپ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کی نسبت کہا جا سکے کہ كُلُّ بَرَكَةٍ مِّنْہ ہر قسم کی برکت اس سے ہے اور اس کے ذریعہ سے حاصل ہو سکتی ہے یہ درجہ صرف اور صرف آنحضرت علی کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے۔پس یہ الہام بھی اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتا ہے جو میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ اس وقت مستقل نبوت اس لئے بند کر دی گئی ہے کہ اب سب برکتیں انسان آنحضرت ﷺ کی غلامی میں حاصل کر سکتا ہے اور براہ راست موہبت کی کوئی ضرورت الله