سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 327

سيرة النبي علي 327 جلد 1 کامیاب کرا سکتے ہیں۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے بعض لوگ خود ایم اے ہوتے ہیں لیکن ان کی لیاقت ایسی اعلیٰ نہیں ہوتی کہ ایم اے کی جماعت کو پڑھا سکیں اور بعض ایم اے ایسے لائق ہوتے ہیں اور ان کا علم اور درجہ استادی ایسا بڑھا ہوا ہوتا ہے کہ وہ ایم اے کی جماعت کو خوب پڑھا سکتے ہیں۔اسی طرح پچھلے نبیوں کی مثال سمجھ لو وہ اپنے اپنے رنگ میں کامل تھے بزرگ تھے نبی تھے۔لیکن ان میں سے ایک نے بھی آنحضرت ﷺ کی عظمت کے مقام کو نہیں پایا۔اس لئے ان کے مدرسہ کا آخری امتحان نبوت نہ تھا بلکہ ولایت تھا۔پھر نبوت بلا واسطہ موہبت سے ملتی تھی لیکن ہمارے آنحضرت ﷺ کو ایسا درجہ استادی ملا کہ آپ کے مدرسہ کو کالج تک بڑھا دیا گیا اور آپ کی شاگردی میں انسان نبی بھی بن سکتا ہے۔اور اگر آپ سے پہلے نبیوں میں سے کوئی ایسا استاد کامل ہو جاتا تو وہی خاتم النبیین ہوتا کیونکہ جس استاد کی شاگردی میں نبوت حاصل ہو سکتی ہو اس کے بعد کسی اور استاد کی ضرورت نہ تھی کیونکہ نبوت کے بعد اور کوئی انعام نہیں۔اسی طرح اگر قرآن کریم سے پہلے کوئی اور کتاب ایسی کامل ہوتی کہ اس پر چل کر انسان نبی بن سکتا تو وہ دنیا کی آخری کتاب ہوتی کیونکہ اس کتاب کے بعد اور کسی کتاب کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ جو کتاب نبی بنا سکتی وہ کامل ترین کتاب ہوتی اور کامل ترین کے بعد اور کسی کتاب کی حاجت نہ تھی۔پس پہلے بلا واسطہ غیر تشریعی نبی اس لئے آتے تھے کہ اُس وقت تک کوئی نبی خاتم النبین ہونے کے لائق نہ تھا اور کوئی کتاب خاتم الکتب ہونے کے درجہ پر نہ تھی۔وہ آنحضرت ﷺ ہی تھے جن کی نسبت فرمایا گیا کہ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰی 1 وہ آپ ہی تھے جن کی نسبت فرمایا گیا کہ قُلْ يَا يُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعَا الَّذِى لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ 2 پھر وہ قرآن کریم ہی ایک کتاب ہے جس کی نسبت فرمایا گیا کہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي 3 اور قرآن ہی ایک کتاب ہے جس کی نسبت فرمایا کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ