سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 328

سيرة النبي ع 328 جلد 1 وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ 4 پس ضرور تھا کہ جب وہ نبی اور وہ کتاب آجائے جس کی شاگردی میں اور جس پر عمل کر کے انسان نبی ہوسکتا ہو تو اس نبی کو خاتم النبین بنا دیا جائے اور اس کتاب کو خاتم الکتب قرار دیا جائے اور یہی سچے معنی ہیں خاتم النبین کے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں وَنُؤْمِنُ بِأَنَّهُ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ إِلَّا الَّذِى رُبِّيَ مِنْ فَيُضِهِ وَاَظْهَرَهُ وَعُدَهُ 5 یعنی ہم مانتے ہیں کہ آپ خاتم الانبیاء تھے اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں مگر وہی کہ جس کی تربیت آپ کے فیض سے ہوئی اور جس کو آپ کے وعدہ نے ظاہر کیا۔پس خلی اور بروزی نبوت کوئی گھٹیا قسم کی نبوت نہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو مسیح موعود کس طرح ایک اسرائیلی نبی کے مقابلہ میں یوں فرماتے کہ : ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو P اس سے بہتر غلام احمد ہے 6 بلکہ یہ نبوت اس شخص کی عزت میں ایک شمہ بھر بھی فرق کرنے کے بغیر جس کو یہ نبوت عطا ہو آنحضرت علیہ کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے اور بجائے ظلی نبی کی عظمت کو حقیقی نبیوں سے کم کرنے کے اس کا مقصد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو سب نبیوں سے بڑا ثابت کرے۔پس یہ مت خیال کرو کہ حضرت مسیح موعود کو چونکہ ظلی نبوت ملی اس لئے آپ کا معاملہ پہلے نبیوں سے مختلف ہے۔نہیں ایسا ہرگز نہیں۔آپ کو نبوت حقیقی اس لئے نہیں ملی کہ اب براہ راست موہبت کی ضرورت نہ تھی بلکہ دنیا میں وہ استاد ظاہر ہو چکا تھا جو اپنے علم اور عقل کے زور سے اعلیٰ سے اعلیٰ امتحانوں میں لوگوں کو پاس کراسکتا تھا۔اور انہی یو نیورسٹی کی تعلیم ایسی اعلی پیمانہ پر ترقی پا چکی تھی اور قرآن کریم جیسی ہر زمانہ کے لئے یکساں مفید کتاب تیار ہو چکی تھی اس لئے اب پرائیویٹ امتحان سے دنیا کو روک دیا گیا لیکن کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ جس نے کالج میں پڑھ کر امتحان پاس کیا