سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 326

سيرة النبي علي 326 جلد 1 صلى الله شان خاتم الانبیاء ﷺ کی ایک جھلک خواجہ کمال الدین صاحب نومبر 1914ء میں لندن سے واپس آئے تو اہل پیغام کے جلسہ سالانہ 1914ء میں انہوں نے ایک لیکچر دیا جو اندرونی اختلافات سلسلہ احمدیہ کے اسباب“ کے عنوان سے شائع ہوا۔حضرت مصلح موعود نے اس لیکچر کے مطالعہ کے بعد 21 جنوری 1915ء کو اس کا جواب لکھا جو 30 جنوری 1915 ء کو شائع ہوا۔اس کا نام القول الفصل“ رکھا گیا۔اس کتاب میں رسول کریم ﷺ کی شان خاتم الانبیاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔سوائے آنحضرت ﷺ کے کوئی نبی اس شان کا نہیں گزرا کہ اس کی اتباع میں ہی انسان نبی بن جائے۔لہذا اس قسم کی نبوت صرف اس مکمل انسان کے اتباع میں ہی پائی جاسکتی تھی۔اس لئے پہلی امتوں میں اس کی نظیر نہیں اور اس امت میں سے بھی صرف مسیح موعود کو اس وقت تک یہ درجہ عطا ہوا ہے۔اور پہلی امتوں میں اس کی نظیر نہ ملنے کی یہ وجہ نہیں کہ پہلے حقیقی نبی آسکتے تھے اس لئے ایسے نبی کی کوئی ضرورت نہ تھی بلکہ پہلے نبیوں میں سے کوئی نبی ایسا استاد نہیں ہوا جس کی شاگردی میں نبوت مل سکے۔اس لئے پہلے نبیوں کی امت کے لوگ ایک حد تک پہلے نبی کی تربیت کے نیچے ترقی پاتے پاتے رک جاتے تھے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر نظر فر ما تا تھا اور جن کو اس قابل پاتا کہ وہ نبی بن سکیں ان کو اپنے فضل سے بڑھا تا اور براہ راست نبی بنا صلى الله دیتا۔لیکن ہمارے آنحضرت علی کو اللہ تعالیٰ نے ایسے بلند مقام پر کھڑا کیا اور آپ نے استادی کا ایسا اعلیٰ درجہ حاصل کر لیا کہ آپ اپنے شاگردوں کو اس امتحان میں