سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 322
سيرة النبي علي 322 جلد 1 تھی کہ ہمیں یہاں کھینچ لائی۔اس کے علاوہ اس وقت لوگوں میں ایک محبت اور عقیدت کے جذبات جوش مارتے ہوں گے جبکہ وہ خیال کرتے ہوں گے کہ آج ہم اس متبرک اور پاک سرزمین پر صلى الله پھر رہے ہیں جس پر آج سے تیرہ سو سال پیشتر آنحضرت علیے پھرتے تھے۔اور پھر خصوصاً یہ کہ جب آنحضرت عمے کو اہل مکہ نے یہاں سے نکال دیا تو کس شان و شوکت سے دوبارہ وہ قدوم میمنت لزوم یہاں پہنچے اور وہ مکہ کے لوگ جن کی اذیتوں اور تکلیفوں کی وجہ سے مسلمانوں کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا اور یہاں لا اله الا اللہ کہنے کی اجازت نہیں تھی۔لیکن آج ہر ایک کی زبان پر اللهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلهُ إِلَّا اللهُ والله اكبر الله اَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمدُ جاری ہوتا دیکھ کر کیا ہی لذت آتی ہو گی۔آج کے دن زوال سے لے کر سورج کے ڈوبنے تک حاجی عرفات میں اور مغرب۔لے کر صبح تک مزدلفہ میں آنحضرت ﷺ کی سنت پر عمل کرنے والے دعاؤں میں لگے صلى الله رہتے ہیں۔افسوس کہ بہت کم لوگ اس طرف توجہ کرتے ہیں اور اکثر اِدھر اُدھر پھر کر وقت گزار دیتے ہیں۔آنحضرت ﷺ کی نسبت لکھا ہے کہ آپ صبح تک دعاؤں میں مشغول رہتے۔دعاؤں کیلئے یہ وقت بہت مبارک ہے۔جس کو خدا نے عرفات اور مزدلفہ میں دعاؤں کی توفیق دی ہے وہ تو بہت خوش نصیب ہے لیکن جو اپنے گھروں میں ہیں ان کیلئے بھی خوش قسمتی کا موقع ہے وہ بھی دعاؤں میں مشغول رہیں۔سب سے پہلے اس انسان کیلئے بہت دعائیں کی جائیں جس کے طفیل مذہب اسلام ہمیں ملا یعنی آنحضرت علی کیلئے۔اگر آپ کی مصیبتیں، آپ کی جان کا ہیاں اور آپ کی دعائیں نہ ہوتیں تو ہم تک کہاں اسلام پہنچ سکتا تھا۔اور آپ نے دن رات لگ کر تئیس سال متواتر ہلا ایک دم اور لمحہ راحت اور چین میں رہنے کے اسلام کی اشاعت کی جس کے نتیجہ میں ایک ایسی جماعت پیدا ہو گئی جس نے ہم تک اسلام کو پہنچایا۔تو پہلے آنحضرت علی صلى الله