سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 321
سيرة النبي علي 321 جلد 1 صلى الله حج کے دن رسول کریم ، صحابہ کرام اور صلحائے امت کیلئے بہت دعائیں کرو حضرت مصلح موعود نے 30 اکتوبر 1914ء کو خطبہ جمعہ دیتے ہوئے فرمایا:۔اگر جس حساب سے ہماری عید ہے اسی حساب کے مطابق مکہ میں عید ہوئی تو وہاں آج حج کا دن ہے۔لاکھوں لاکھ آدمی کوئی کسی قوم کا، کوئی کسی ملک کا، ایک دوسرے کی رسم و رواج، ایک دوسرے کی زبان، ایک دوسرے کی عادتوں،ایک دوسرے کی خواہشوں ، ایک دوسرے کی اُمنگوں سے ناواقف ایک بہت بڑے وسیع میدان میں جمع ہوں گے۔اور نہ صرف ان کے سامنے یہ نظارہ ہوگا کہ دنیا کے کن کن کونوں میں خدا تعالیٰ نے اسلام کو پھیلایا بلکہ یہ بھی ہوگا کہ اس بے برگ و گیاہ جنگل میں ( جہاں ایک مشک پانی کی روپیہ دے کر بھی مشکل ہاتھ آتی ہے ) کہاں کہاں سے لوگ آئے ہیں۔یہ عجیب منظر دیکھ کر ہر انسان کے دل میں عجیب کیفیت پیدا ہوتی ہے۔اور اسلام کی سچائی کا بہت بڑا ثبوت ملتا ہے کہ اس جنگل اور وادی غیر ذی زرع میں ایک بلند ہونے والی آواز جس کو غیر تو الگ رہے اپنے بھی نہیں سنتے تھے اور آواز دینے والے کو جھڑک دیتے تھے وہی آواز تمام دنیا کے کونوں تک پہنچ کر آج ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کے اجتماع کا باعث ہوئی ہے۔تمام وہاں جانے والے انسانوں کے پیش نظر یہ نظارہ ہوتا ہے کہ کہاں محمد ﷺ پیدا ہوئے اور اس نے ایسی آواز بلند کی جو گونجتی ہمارے دور دراز ملکوں میں پہنچی اور وہ اپنے اندر ایسی کشش رکھتی