سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 255

سيرة النبي علي 255 جلد 1 فقدان کا نتیجہ نہ تھا بلکہ اس کا باعث آپ کے وہ اعلیٰ اخلاق تھے جن کی نظیر دنیا میں کسی زمانہ کے لوگوں میں بھی نہیں ملتی اور یہ کہ گویا تحمل اپنے کمال کے درجہ کو پہنچا ہوا تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حرمات کا سوال جب درمیان میں آ جاتا تو اُس وقت آنحضرت ﷺ ہرگز مبر سے کام نہ لیتے بلکہ جس قدر جلد ممکن ہوتا مناسب تدارک فرما دیتے اور اللہ تعالیٰ کے جلال کے قائم کرنے میں ہرگز دیر نہ فرماتے۔پس آپ کا تحمل ایک طرف تو بے نظیر تھا اور دوسری طرف بالا رادہ تھا۔اور پھر آپ کی اس صفت کا اظہار کبھی بے موقع نہیں ہوتا تھا جیسا کہ آج کل کے زمانہ کا حال ہے کہ اپنے نفس کے معاملہ میں تو لوگ ذرا ذرا سی بات میں جوش میں آ جاتے ہیں لیکن جب خدا اور اس کے دین کا معاملہ آتا ہے تو صبر و تحمل کی تعلیم و تلقین کرتے ہوئے ان کے ہونٹ خشک ہوئے جاتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ تحمل صرف ذاتی تکلیف اور دکھ کے وقت ہوتا ہے ور نہ دین کے معاملہ میں بناوٹی صلح اور جھوٹا ملاپ ایک بے غیرتی ہے اور کمی ایمان اور حرص دنیاوی کا ثبوت ہے۔صبر عربی زبان میں روکنے کو کہتے ہیں اور استعمال میں یہ لفظ تین صبر معنوں میں آتا ہے۔کسی شخص کا اپنے آپ کو اچھی باتوں پر قائم رکھنا، بری باتوں سے اپنے آپ کو روکنا اور مصیبت اور دکھ کے وقت جزع و فزع سے پر ہیز کرنا اور تکلیف کے ایسے اظہار سے جس میں گھبراہٹ اور ناامیدی پائی جائے اجتناب کرنا۔اردو زبان میں یا دوسری زبانوں میں یہ لفظ ایسا وسیع نہیں ہے بلکہ اسے ایک خاص محدود معنوں میں استعمال کرتے ہیں اور صرف تیسرے اور آخری معنوں کے لیے اس لفظ کو مخصوص کر دیا گیا ہے یعنی مصیبت اور رنج میں اپنے نفس کو جزع و فزع اور ناامیدی اور کرب کے اظہار سے روک دینے کے معنوں میں۔چونکہ اُردو میں اس کا استعمال انہی معنوں میں ہے اس لیے ہم نے بھی اس لفظ کو اسی معنی میں استعمال کیا ہے اور اس ہیڈنگ کے نیچے ہماری غرض آنحضرت ﷺ کی ایسی صفت پر روشنی ڈالنا ہے