سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 256

سيرة النبي علي 256 جلد 1 جس معنی میں کہ یہ لفظ اردو میں استعمال ہوتا ہے۔اس میں تو کوئی شک نہیں کہ یہ ایک نہایت اعلیٰ درجہ کی صفت ہے اور دنیا کی تمام اقوام فطرتاً اس صفت کی خوبی کی قائل ہیں گو بد قسمتی سے ہندوستان اس کے خلاف نظر آتا ہے کہ مُردوں پر سالہا سال تک ماتم کیا جاتا ہے اور ایسی بے صبری کی حرکات کی جاتی ہیں اور کرب کی علامات ظاہر کی جاتی ہیں کہ دیکھنے والوں کو بھی تعجب آتا ہے۔غرضیکہ فطرتا گل اقوامِ عالم نے صبر کو نہایت اعلیٰ صفت تسلیم کیا ہے اور ہر قوم میں صابر نہایت قابلِ قدر خیال کیا جاتا ہے چونکہ آنحضرت ﷺ کی نسبت ہما را دعوی ہے کہ آپ تمام صفات حسنہ کا مجموعہ تھے اور آپ سے بڑھ کر دنیا کا کوئی انسان نیک اخلاق کا اعلیٰ اور قابلِ تقلید نمونہ نہیں تھا اس لیے ذیل میں ہم صبر کے متعلق آپ کی زندگی کا ایک واقعہ بتاتے ہیں جس سے معلوم ہو جائے گا کہ آپ اس صفت سے کہاں تک متصف تھے۔بچپن میں اول والدہ اور پھر دادا کے فوت ہو جانے سے (والد پیدائش سے بھی پہلے فوت ہو چکے تھے ) جو صدمات آپ کو پہنچے تھے ان میں آپ نے جس صبر کا اظہار کیا اور پھر دعوی نبوت کے بعد جو تکالیف کفار سے آپ کو پہنچیں اس کو جس صبر و استقلال سے آپ نے برداشت کیا اور یکے بعد دیگرے انہی مصائب کے زمانہ میں آپ کے نہایت مہربان چچا اور وفاداری میں بے نظیر بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات اور اپنے پیارے متبعین کی مکہ سے ہجرت کر جانے پر جس صبر کا نمونہ آپ نے دکھایا تھا وہ ایک ایسا وسیع مضمون ہے کہ قلتِ گنجائش ہم کو ہرگز اس کی اجازت نہیں دیتی کہ ہم ان مضامین کو یہاں شروع کریں اس لیے ہم صرف ایک چھوٹے سے واقعہ کے بیان کرنے پر جو بخاری شریف میں مذکور ہے کفایت کرتے ہیں۔جیسا کہ سیرۃ النبی ﷺ کے ابتدا سے مطالعہ کرنے والے اصحاب نے دیکھا ہوگا میں نے اس بات کا التزام کیا ہے کہ اس سیرۃ میں صرف واقعات سے آنحضرت