سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 254
سيرة النبي علي 254 جلد 1 بھی اس کی شہادت دیتے ہیں۔چنانچہ بخاری کی ایک حدیث سے ظاہر ہے جسے مفصل ہم پہلے کسی اور جگہ لکھ آئے ہیں کہ جنگ احد میں جب عام طور پر یہ خبر مشہور ہوگئی کہ آنحضرت علی شہید ہو گئے ہیں اور کفار مکہ عَلَی الْإِعْلان اپنی اس کامیابی پر فخر کرنے لگے اور ان کے سردار نے بڑے زور سے پکار کر کہا کہ کیا تم میں محمد ہے ؟ جس سے اس کی مراد یہ بتانا تھا کہ ہم آپ کو مار چکے ہیں اور آپ دنیا سے رحلت فرما گئے ہیں مگر آنحضرت ﷺ نے اپنے اصحاب کو فرمایا کہ کوئی جواب نہ دیں۔اور اس طرح اس کا جھوٹا فخر پورا ہونے دیا۔اور یہ نہیں کیا کہ غضب میں آ کر اسے کہتے کہ میں تو زندہ موجود ہوں یہ بات کہ تم نے مجھے قتل کر دیا ہے بالکل جھوٹ اور باطل ہے اور اس میں کوئی صداقت نہیں۔ہاں جب ابو سفیان نے یہ کہا کہ اُعْلُ هُبَل اُعْلُ هُبل بیل بت کی شان بلند ہو، ہبل بُت کی شان بلند ہو تو اُس وقت آپ خاموش نہ رہ سکے اور صحابہ کو فرمایا کہ کیوں جواب نہیں دیتے ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا جواب دیں؟ فرمایا اسے کہو کہ اللهُ اَعْلَی وَاَجَلُّ اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ یعنی تمہارے ہیں میں کیا طاقت ہے وہ تو ایک بناوٹی چیز ہے اللہ ہی ہے جو سب چیزوں سے بلند رتبہ اور عظیم القدر ہے۔اور پھر جب اس نے کہا کہ لَنَا الْعُزَّى وَلَا عُزّى لَكُمْ تو آپ نے پھر صحابہ سے فرمایا کہ جواب دو۔انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! کیا جواب دیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ کہو لَنَا مَولى وَلَا مَوْلَى لَكُمُ 98 خدا تعالیٰ ہمارا دوست و مددگار ہے اور تمہارا مددگار کوئی نہیں۔یعنی کڑی میں کچھ طاقت نہیں طاقت تو اللہ تعالیٰ میں ہے اور وہ ہمارے ساتھ ہے۔پس اس واقعہ سے صاف کھل جاتا ہے کہ حضرت عائشہ نے آنحضرت ﷺ کے اخلاق کے متعلق جو گواہی دی ہے وہ صرف ان کا خیال ہی نہیں بلکہ واقعات بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں اور تاریخی ثبوت اس کی سچائی کی شہادت دیتے ہیں۔اور آنحضرت ﷺ کی زندگی پر غور کرنے سے ایک موٹی سے موٹی عقل کا انسان بھی اس نتیجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ آپ کا عمل کسی صفت حسنہ کے