سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 237
سيرة النبي عل 237 جلد 1 قسم یاد دلائے بغیر ان سواریوں کو استعمال کریں اور یہ اُس عظیم الشان فتح کا نشان تھا جو آپ کو اپنے اصحاب کے دلوں پر حاصل تھی۔تحمل انسان کے نیک خصال میں سے تحمل کی خصلت بھی اعلیٰ درجہ کی ہے کیونکہ تحمل سے بہت سے جھگڑوں اور لڑائیوں کا قلع قمع ہو جاتا ہے۔بہت دفعہ انسان ایک بات سن کر بحث مباحثہ میں پڑ جاتا ہے اور بجائے فائدہ کرنے کے نقصان پہنچاتا ہے۔بعض لوگ تو اپنے خیال کے خلاف بات سنتے ہی کچھ ایسے دیوانہ ہو جاتے ہیں کہ حد اعتدال سے بڑھ کر گالیوں پر اتر آتے ہیں اور عظیم الشان فسادوں کے بانی ہو جاتے ہیں۔بعض لوگ اپنے منشا کے خلاف بات سن کر ایسی طول طویل بحثیں شروع کر دیتے ہیں کہ جن کا ختم ہونا محالات سے ہو جاتا ہے لیکن حقیقی مصلح وہی الله ہے جوا کثر اوقات تحمل سے کام لیتا ہے اور احتیاط کے ساتھ سمجھاتا ہے۔آج کل کے بادشاہ یا علماء یا گدی نشین اپنی حیثیت کا قیام ہی اسی میں دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص ان کے خلاف بات نہ کرے اور مرضی کے خلاف بات دیکھ کر فوراً ناراض ہو جاتے ہیں اور تحمل سے کام نہیں لیتے۔ممکن نہیں کہ ان لوگوں کے مزاج کے خلاف کوئی شخص بات کہہ دے اور پھر بغیر کچھ سخت وست کلام سننے کے اس مجلس سے اٹھے۔مگر ہمارے آنحضرت ﷺ اس طرز کے نہ تھے۔آپ اس موقع پر تحمل سے کام لیتے اور بجائے گالیاں دینے اور سختی کرنے کے ایسا نرمی کا طریق اختیار کرتے کہ دوسرا خود بخو دشرمندہ ہو جائے۔حضرت علی اپنا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک موقع پر جبکہ حضرت علیؓ نے آپ کو ایسا جواب دیا جس میں بحث اور مقابلہ کا طرز پایا جاتا تھا تو بجائے اس کے کہ آپ ناراض ہوتے یا خفگی کا اظہار کرتے آپ نے ایک ایسی لطیف طرز اختیار کی کہ حضرت علی غالبا اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس کی حلاوت سے مزہ اٹھاتے رہے ہوں گے۔اور انہوں نے جو لطف اٹھایا ہو گا وہ تو انہی کا حق تھا