سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 236
سيرة النبي علي 236 جلد 1 ایک ظاہر بین انسان کہہ سکتا ہے کہ اس سے رعب و داب میں فرق آتا ہے اور حکومت کو نقصان پہنچتا ہے مگر اس بات سے تو آپ کی خوبی اور نیکی کا پتہ چلتا ہے کہ خواہ کوئی امر کیسا ہی خطرناک اور مضر معلوم ہوتا ہو آپ بے دھڑک اسے اختیار کر لیتے تھے جبکہ آپ کو یقین ہو جاتا کہ اس سے لوگوں کے حقوق کی نگہداشت ہوتی ہے۔اور یہ اللہ تعالیٰ کا ایک خاص نشان تھا کہ باوجود اس بات کے آپ کو ایسا رعب و داب میسر تھا جو دنیا کے کسی بادشاہ کو میسر نہیں۔واقعہ میں ایک بادشاہ کا اصل فرض یہ ہے کہ وہ لوگوں کو سکھ پہنچائے اور آپ نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ آپ دین و دنیا کے لیے ایک کامل نمونہ تھے اور آپ کی زندگی دنیاوی بادشاہوں کے لیے بھی نمونہ ہے کہ بادشاہوں کو اپنے ماتحتوں اور رعایا کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے اور کس طرح ضد اور تعصب سے الگ ہو کر ہر ایک قربانی اختیار کر کے لوگوں کو آرام پہنچانے کے لیے تیار رہنا چاہئے۔ہمیں اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ماتختوں پر اُسی وقت بادشاہ کے حکم بدل دینے کا برا اثر پڑتا ہے جب کہ ان کو یہ یقین ہو کہ بادشاہ ہمارا یقینی خیر خواہ نہیں بلکہ اس نے ڈر کر اپنے حکم میں تبدیلی کی ہے اور جب انہیں یقین ہو کہ اس کے احکام ایک غیر مستقل طبیعت کا نتیجہ ہیں۔لیکن اگر انہیں اس بات کا کامل یقین ہو جائے کہ کوئی بادشاہ یا حاکم ان سے ڈر کر یا بے استقلالی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے لم بدلتا ہے کہ وہ ان کا خیر خواہ ہے اور کسی وقت بھی ان کی بھلائی سے غافل نہیں ہوتا تو بجائے اس کے کہ ان کے دلوں میں بے رحمی پیدا ہو وہ اس سے اور بھی مرعوب ہو جاتے ہیں اور ان کے دل محبت سے بھر جاتے ہیں۔اور جو بادشاہ اپنی رعایا اور ماتحتوں کے دلوں میں اپنی خیر خواہی کا ایسا یقین بٹھا دے وہی سب سے زبردست بادشاہ ہے۔اور یہی خیال تھا جس نے کہ ابو موسی اور ان کے ساتھیوں کو مجبور کیا کہ صلى الله بجائے اس خیال کے کہ یہ سمجھیں کہ آنحضرت علیہ سے کسی قسم کی بے استقلالی ظاہر ہوئی ہے انہوں نے جنگ کے لیے پیدل جانا منظور کیا مگر یہ نہ پسند کیا کہ آپ کو دوبارہ