سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 238

سيرة النبي علي 238 جلد 1 الله اب بھی آنحضرت ﷺ کے اس اظہار نا پسندیدگی کو معلوم کر کے ہر ایک باریک بین نظر محو حیرت ہو جاتی ہے۔حضرت علی كَرَّمَ اللهُ وَجْهَهُ فرماتے ہیں اَنَّ رَسُوْلَ محو اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ بِئْتَ النَّبِيِّ الله لَيْلَةً فَقَالَ أَلَّا تُصَلِّيَان فَقُلْتُ يَارَسُوْلَ اللهِ أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا فَانْصَرَفَ حِينَ قُلْتُ ذَلِكَ وَلَمْ يَرْجِعُ إِلَيَّ شَيْئًا ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُوَلٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ وَهُوَ يَقُوْلُ وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا 3 و یعنی نبی کریم صلى الله ایک رات میرے اور فاطمہ الزہرا کے پاس تشریف لائے جو رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی تھیں اور فرمایا کہ کیا تم تہجد کی نماز نہیں پڑھا کرتے ؟ میں نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ ! ہماری جانیں تو اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں جب وہ اٹھانا چاہے اٹھا دیتا ہے۔آپ اس بات کو سن کر کوٹ گئے اور مجھے کچھ نہیں کہا۔پھر میں نے آپ سے سنا اور آپ پیٹھ پھیر کر کھڑے ہوئے تھے اور آپ اپنی ران پر ہاتھ مار کر کہہ رہے ہیں کہ انسان تو اکثر باتوں میں بحث کرنے لگ پڑتا ہے۔الله الله !! کس لطیف طرز سے حضرت علیؓ کو آپ نے سمجھایا کہ آپ کو یہ جواب نہیں دینا چاہیے تھا۔کوئی اور ہوتا تو اول تو بحث شروع کر دیتا کہ میری پوزیشن اور رتبہ کو دیکھو پھر اپنے جواب کو دیکھو کہ کیا تمہیں یہ حق پہنچتا تھا کہ اس طرح میری بات کو رد کر دو۔نہیں تو کم سے کم یوں بحث شروع کر دیتا کہ یہ تمہارا دعویٰ غلط ہے کہ انسان مجبور ہے اور اس کے تمام افعال اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں وہ جس طرح چاہے کروا تا ہے۔چاہے نماز کی توفیق دے، چاہے نہ دے اور کہتا کہ جبر کا مسئلہ قرآن شریف کے خلاف ہے۔لیکن آپ نے ان دونوں طریق میں سے کوئی بھی اختیار نہ کیا اور نہ تو ان پر ناراض ہوئے نہ بحث کر کے حضرت علیؓ کو ان کے قول کی غلطی پر آگاہ کیا بلکہ ایک طرف ہو کر ان کے اس جواب پر اس طرح اظہار حیرت کر دیا کہ انسان بھی عجیب ہے کہ ہر بات میں کوئی نہ کوئی پہلو اپنے موافق نکال ہی لیتا ہے اور بحث شروع کر دیتا