سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 220
سيرة النبي علي 220 صلى الله جلد 1 جب مسلمانوں کو اس لشکر کی آمد کی خبر ہوئی تھی تو آنحضرت ﷺ نے سب صحابہ کو بلا کر مشورہ کیا کہ کیا کیا جائے۔حضرت سلمان نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ایسے موقع پر ہمارے ملک میں تو خندق کھود لیتے ہیں اور اس کے پیچھے بیٹھ کر دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں۔آپ نے یہ بات سن کر خندق کھود نے کا حکم دیا اور اسی وجہ سے جنگ احزاب کو غزوہ خندق بھی کہتے ہیں۔چالیس چالیس ہاتھ زمین دس دس آدمیوں کو کھودنے کے لیے بانٹ دی گئی اور کام زور وشور سے جاری ہو گیا مگر آنحضرت ﷺ کہاں تھے؟ آپ بھی ان لوگوں میں کام کر بھی رہے تھے جو ادھر سے ادھر مٹی ڈھو رہے تھے کیونکہ کچھ لوگ زمین کھودتے تھے اور کچھ وہاں سے مٹی اٹھا کر ایک طرف کر دیتے تھے حتی کہ آپ کا بدن مٹی سے بھر گیا تھا۔حضرت براء سے روایت ہے قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ يَنْقُلُ التُّرَابَ وَقَدْ وَارَى التُّرَابُ بَيَاضَ بَطْنِهِ وَهُوَ يَقُوْلُ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلِ السَّكِيْنَةَ عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا إِنَّ الْإِلَى قَدْ بَغَوُا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوْا فِتَةً أَبَيْنَا 87 فرمایا کہ میں نے رسول اللہ علیہ کو جنگ احزاب میں اس حالت میں دیکھا ہے کہ آپ بھی مٹی ڈھو رہے تھے اور آپ کے گورے گورے پیٹ پر مٹی پڑی ہوئی تھی اور آپ یہ فرماتے جاتے تھے الہی ! اگر تیرا فضل نہ ہوتا تو ہمیں ہدایت نصیب نہ ہوتی اور نہ ہم صدقہ دیتے نہ نمازیں پڑھتے۔پس ہم پر اپنی طرف سے تسلی نازل فرما اور اگر جنگ پیش آئے تو ہمارے پاؤں کو ثبات دیجیے۔وہ دشمن کے مقابلہ میں بالکل نہ ڈگمگائیں۔الہی ! یہ کا فرہم پر ظلم اور زیادتی سے حملہ آور ہو گئے ہیں اور ہمارے خلاف انہوں نے بغاوت کی ہے کیونکہ جب انہوں نے ہمیں شرک وکفر میں مبتلا ہونے کی دعوت دی ہے ہم نے ان کی بات کے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔